اگر ملک پر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
تہران: ایران میں جاری مظاہروں اور ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشات کے درمیان ایرانی پارلیمنٹ نے غیر معمولی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں امریکی حملے کی صورت میں ایران کے ردعمل اور ملکی سلامتی پر غور کیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں حالیہ فسادات کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ممکنہ امریکی مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔
مزید پڑھیںایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے؛ اسرائیلی جاسوس پکڑا گیا
ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہے، صدر ٹرمپ
ایرانی میڈیا کے مطابق عمانی وزیر خارجہ ابو سعیدی نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقات کے دوران امن و امان، خطے کی صورتحال اور دیگر اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
نیٹ بلاکس کی رپورٹ کے مطابق ایران بھر میں انٹرنیٹ سروس 60 گھنٹے سے زیادہ معطل ہے، جس نے مظاہرین اور عوام کے لیے رابطے کے ذرائع بند کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔