5 دہائیوں بعد انسان ایک بار پھر چاند پر جانے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے فروری2026ء میں 5 دہائیوں بعد پہلا انسان بردار خلائی مشن آرٹیمس 2 کو روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ناسا کی جانب سے حتمی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور بہت جلد اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ کو فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر میں منتقل کیا جائے گا۔ ناسا کی جانب سے 17 جنوری یا اس کے بعد کسی وقت اسپیس کرافٹ کو وہاں منتقل کیا جائے گا جبکہ6 فروری کو مشن روانہ کیا جائے گا۔ البتہ اس کا انحصار موسم اور دیگر تکنیکی تفصیلات پر ہوگا۔ آخری بار ناسا نے 1972ء میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا۔ 10 روزہ آرٹیمس2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں۔یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔اگر یہ مشن طے شدہ وقت کے مطابق روانہ ہوا تو ناسا کی جانب سے جنوری کے آخری میں ایک ریہرسل بھی کی جائے گی۔واضح رہے کہ نومبر 2022ء میں آرٹیمس 1 مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔10 روزہ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہے۔یہ مشن پہلے اپریل 2026ء میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر اب اسے فروری میں بھیجے جانے کا امکان ہے۔آرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔2027ء میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناسا کی جانب سے ا رٹیمس
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی