Islam Times:
2026-06-03@01:11:53 GMT

اسلام باقی، ایران باقی

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

اسلام باقی، ایران باقی

اسلام ٹائمز: آج ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواری ایران کے خاتمے کی آس میں اچھل کود رہے ہیں لیکن ان کا یہ اچھلنا کودنا ایک بار پھر انہیں مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے ایران کی تباہی کی جو صورت دکھائی وہ اب دنیا کے سامنے فیک ثابت ہوئی ہے اور گرد چھٹنے کے بعد ایران کا اصل چہرہ دوبارہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور ایران کے دشمنوں کے بگڑے چہرے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں ہوئے ہیں اور ایران کا اسلامی نظام اور اس کی اسلامی حکومت تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود منصہء شہود پر باقی رہی ہے اور انشاءاللہ باقی رہے گی۔ تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی

آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آنے والا انقلابِ ایران، پرامن ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ دو گروہوں کے مابین باقاعدہ مسلح جنگ کا نتیجہ تھا۔ ایک طرف شاہ ایران کی فوج اور اس کے مغرب پرست حامی تھے اور دوسری جانب امام خمینی کی قیادت میں اسلام پسندوں کی جمعیت۔ آخر اسلام پسند اس جنگ میں غالب آئے اور انہوں نے ایران میں امام خمینی کی قیادت میں ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اسلام پسندوں کے مقابلے میں اگرچہ شاہ پسند اور مغرب پرست مغلوب ہوئے لیکن وہ صفحہءہستی سے محو بالکل نہیں ہوئے بلکہ اپنی شکست کا داغ اپنے سینے میں لیے ہوئے باقی رہے اور باقی ہیں۔ ان کی باقیات گزشتہ تقریباً پچاس سال سے مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کی سڑکوں پر آ کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک ان کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایک اسلامی معاشرے کو اپنے لیے گھٹن سمجھتے ہیں اور شاہ کے دور میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ایران کی اسلامی حکومت کے لیے بہرحال ایک چیلنج ہیں۔ ایران کے بعض معاشی مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں جن کی جینوئن وجوہات بھی ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ایران کے عوام کی اکثریت ان مسائل سے نجات کے لیے وہاں کی اسلامی حکومت سے بھی نجات چاہتی ہو۔ اسلامی حکومت کا مخالف طبقہ جب کبھی بھی بیرونی امداد کے بل بوتے پر ذرا سر اٹھاتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور مغربی حکومتیں دنیا کو یہ باور کراتی ہیں کہ اس اسلامی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لیکن ایران کا اسلامی نظام اور اس کی حکومت ہے کہ پھر بھی باقی رہتی ہے۔

1979ء میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد ایران کے نظام کے اندر رہتے ہوئے جو حکومتیں تشکیل دی گئیں وہ کچھ عرصے کی ہی مہمان رہیں، مثلاً ڈاکٹر کریم سنجابی اور ڈاکٹر مہدی بازرگان کی حکومتیں وغیرہ۔ حکومتوں کے اس طرح سے آنے جانے کو دیکھ کر اس وقت کا مغربی میڈیا اور خصوصاً ”بی بی سی“ وغیرہ کا تبصرہ ہمیں اب بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ ”ایران کی یہ حکومت چھے ماہ بھی نہیں چل سکے گی“۔ لیکن ان کا یہ تجزیہ آخر کار باطل ثابت ہوا اور ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی۔ اس حکومت کے خاتمے کے لیے پھر کچھ ہی عرصے کے بعد امریکہ، مغرب اور بعض عرب حکومتوں کی حمایت سے صدام حسین کے ذریعے  ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔

ایران جو ایک خونی انقلاب سے تازہ تازہ گزر کر آیا تھا، اس کے حوالے سے اب کہا گیا کہ ایران کی یہ نئی نویلی حکومت اس حملے کے نتیجے میں ایک ہفتہ بھی ٹھہر نہیں سکے گی لیکن یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور حکومت اسلامی باقی رہی۔ اس عرصے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ ایران اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے ایرانی عوام کی تمام تر توجہ جنگ کی طرف ہے۔ جونہی یہ جنگ ختم ہوگی، ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ جنگ ختم ہوگئی لیکن حکومت اسلامی پھر بھی باقی رہی۔ اس کے بعد ایران کی اسلامی حکومت کے خاتمے کی آس لگائے بیٹھے امریکہ اور اس کے آلہءکار میڈیا نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ کہ کیوں کہ امام خمینی ابھی حیات ہیں، اس وجہ سے اس حکومت کو کچھ سہارا ملا ہوا ہے، جونہی امام خمینی اس دنیا سے رخصت ہوئے یہ حکومت بھی رخصت ہو جائے گی۔

آخر ایک دن امام خمینی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے لیکن ایران کی اسلامی حکومت پھر بھی باقی رہی اور اس نے آنے والے وقت میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی قیادت میں مزید استحکام حاصل کیا۔ اس کے بعد شاہ ایران کی باقیات کئی مواقع پر اس اسلامی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئی۔ مثلاً مہاسا امینی کے معاملے میں ایک فساد کھڑا گیا۔ اس فتنے کو ابھارنے میں بعض مغربی حکومتوں کا کردار روز روشن کی طرح واضع تھا لیکن یہ فتنہ بھی کچھ عرصے بعد اپنی موت آپ مر گیا لیکن اسلامی حکومت باقی رہی۔ گزشتہ سال جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر براہ راست حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ جرنیلوں، سائنس دانوں اور سیاسی شخصیات کو شہید کیا گیا تب بھی اسرائیل اور امریکہ اپنے دل میں ایران کے خاتمے کی خواہش کو لیے بیٹھے رہے لیکن ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی اور اپنے راستے پر گامزن رہی۔

آج ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواری ایران کے خاتمے کی آس میں اچھل کود رہے ہیں لیکن ان کا یہ اچھلنا کودنا ایک بار پھر انہیں مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے ایران کی تباہی کی جو صورت دکھائی وہ اب دنیا کے سامنے فیک ثابت ہوئی ہے اور گرد چھٹنے کے بعد ایران کا اصل چہرہ دوبارہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور ایران کے دشمنوں کے بگڑے چہرے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں ہوئے ہیں اور ایران کا اسلامی نظام اور اس کی اسلامی حکومت تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود منصہء شہود پر باقی رہی ہے اور انشاءاللہ باقی رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی اسلامی حکومت اسلامی حکومت کے دنیا کے سامنے اسرائیل اور کے خاتمے کی ایک بار پھر اور ایران بعد ایران اور اس کے ایران کا باقی رہی ایران کے کے بعد ہے اور

پڑھیں:

 محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری

(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔

 اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya

— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) June 2, 2026

  اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔

 دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، ‎‎‎ تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی