اسلام ٹائمز: آج ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواری ایران کے خاتمے کی آس میں اچھل کود رہے ہیں لیکن ان کا یہ اچھلنا کودنا ایک بار پھر انہیں مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے ایران کی تباہی کی جو صورت دکھائی وہ اب دنیا کے سامنے فیک ثابت ہوئی ہے اور گرد چھٹنے کے بعد ایران کا اصل چہرہ دوبارہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور ایران کے دشمنوں کے بگڑے چہرے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں ہوئے ہیں اور ایران کا اسلامی نظام اور اس کی اسلامی حکومت تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود منصہء شہود پر باقی رہی ہے اور انشاءاللہ باقی رہے گی۔ تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آنے والا انقلابِ ایران، پرامن ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ دو گروہوں کے مابین باقاعدہ مسلح جنگ کا نتیجہ تھا۔ ایک طرف شاہ ایران کی فوج اور اس کے مغرب پرست حامی تھے اور دوسری جانب امام خمینی کی قیادت میں اسلام پسندوں کی جمعیت۔ آخر اسلام پسند اس جنگ میں غالب آئے اور انہوں نے ایران میں امام خمینی کی قیادت میں ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اسلام پسندوں کے مقابلے میں اگرچہ شاہ پسند اور مغرب پرست مغلوب ہوئے لیکن وہ صفحہءہستی سے محو بالکل نہیں ہوئے بلکہ اپنی شکست کا داغ اپنے سینے میں لیے ہوئے باقی رہے اور باقی ہیں۔ ان کی باقیات گزشتہ تقریباً پچاس سال سے مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کی سڑکوں پر آ کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔
امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک ان کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایک اسلامی معاشرے کو اپنے لیے گھٹن سمجھتے ہیں اور شاہ کے دور میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ایران کی اسلامی حکومت کے لیے بہرحال ایک چیلنج ہیں۔ ایران کے بعض معاشی مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں جن کی جینوئن وجوہات بھی ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ایران کے عوام کی اکثریت ان مسائل سے نجات کے لیے وہاں کی اسلامی حکومت سے بھی نجات چاہتی ہو۔ اسلامی حکومت کا مخالف طبقہ جب کبھی بھی بیرونی امداد کے بل بوتے پر ذرا سر اٹھاتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور مغربی حکومتیں دنیا کو یہ باور کراتی ہیں کہ اس اسلامی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لیکن ایران کا اسلامی نظام اور اس کی حکومت ہے کہ پھر بھی باقی رہتی ہے۔
1979ء میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد ایران کے نظام کے اندر رہتے ہوئے جو حکومتیں تشکیل دی گئیں وہ کچھ عرصے کی ہی مہمان رہیں، مثلاً ڈاکٹر کریم سنجابی اور ڈاکٹر مہدی بازرگان کی حکومتیں وغیرہ۔ حکومتوں کے اس طرح سے آنے جانے کو دیکھ کر اس وقت کا مغربی میڈیا اور خصوصاً ”بی بی سی“ وغیرہ کا تبصرہ ہمیں اب بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ ”ایران کی یہ حکومت چھے ماہ بھی نہیں چل سکے گی“۔ لیکن ان کا یہ تجزیہ آخر کار باطل ثابت ہوا اور ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی۔ اس حکومت کے خاتمے کے لیے پھر کچھ ہی عرصے کے بعد امریکہ، مغرب اور بعض عرب حکومتوں کی حمایت سے صدام حسین کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔
ایران جو ایک خونی انقلاب سے تازہ تازہ گزر کر آیا تھا، اس کے حوالے سے اب کہا گیا کہ ایران کی یہ نئی نویلی حکومت اس حملے کے نتیجے میں ایک ہفتہ بھی ٹھہر نہیں سکے گی لیکن یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور حکومت اسلامی باقی رہی۔ اس عرصے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ ایران اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے ایرانی عوام کی تمام تر توجہ جنگ کی طرف ہے۔ جونہی یہ جنگ ختم ہوگی، ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ جنگ ختم ہوگئی لیکن حکومت اسلامی پھر بھی باقی رہی۔ اس کے بعد ایران کی اسلامی حکومت کے خاتمے کی آس لگائے بیٹھے امریکہ اور اس کے آلہءکار میڈیا نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ کہ کیوں کہ امام خمینی ابھی حیات ہیں، اس وجہ سے اس حکومت کو کچھ سہارا ملا ہوا ہے، جونہی امام خمینی اس دنیا سے رخصت ہوئے یہ حکومت بھی رخصت ہو جائے گی۔
آخر ایک دن امام خمینی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے لیکن ایران کی اسلامی حکومت پھر بھی باقی رہی اور اس نے آنے والے وقت میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی قیادت میں مزید استحکام حاصل کیا۔ اس کے بعد شاہ ایران کی باقیات کئی مواقع پر اس اسلامی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئی۔ مثلاً مہاسا امینی کے معاملے میں ایک فساد کھڑا گیا۔ اس فتنے کو ابھارنے میں بعض مغربی حکومتوں کا کردار روز روشن کی طرح واضع تھا لیکن یہ فتنہ بھی کچھ عرصے بعد اپنی موت آپ مر گیا لیکن اسلامی حکومت باقی رہی۔ گزشتہ سال جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر براہ راست حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ جرنیلوں، سائنس دانوں اور سیاسی شخصیات کو شہید کیا گیا تب بھی اسرائیل اور امریکہ اپنے دل میں ایران کے خاتمے کی خواہش کو لیے بیٹھے رہے لیکن ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی اور اپنے راستے پر گامزن رہی۔
آج ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواری ایران کے خاتمے کی آس میں اچھل کود رہے ہیں لیکن ان کا یہ اچھلنا کودنا ایک بار پھر انہیں مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے ایران کی تباہی کی جو صورت دکھائی وہ اب دنیا کے سامنے فیک ثابت ہوئی ہے اور گرد چھٹنے کے بعد ایران کا اصل چہرہ دوبارہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور ایران کے دشمنوں کے بگڑے چہرے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں ہوئے ہیں اور ایران کا اسلامی نظام اور اس کی اسلامی حکومت تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود منصہء شہود پر باقی رہی ہے اور انشاءاللہ باقی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کی اسلامی حکومت اسلامی حکومت کے دنیا کے سامنے اسرائیل اور کے خاتمے کی ایک بار پھر اور ایران بعد ایران اور اس کے ایران کا باقی رہی ایران کے کے بعد ہے اور
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔