بلدیاتی کالا قانون اور عوامی ریفرنڈم
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلدیاتی حکومتوں کے بل پر ہی جمہوریتیں پنپتی ہیں۔ وہ نظامِ حکومت جو اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کرتا، درحقیقت جمہوریت نہیں بلکہ ایک خوش نما آمریت ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں مقامی حکومتیں مضبوط، بااختیار اور جواب دہ رہی ہیں وہاں ریاستی استحکام، شفاف حکمرانی اور عوامی فلاح نے جنم لیا ہے، اور جہاں بلدیاتی نظام کو دانستہ کمزور رکھا گیا وہاں جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی۔ پاکستان میں جمہوریت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی رہی ہے کہ یہاں ایسا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جس میں کوئی بھی طاقتور طبقے کو للکارنے والا نظام ابھر ہی نہ سکے۔ اختیارات کو مرکز اور صوبوں تک محدود رکھ کر عوام کو محض ووٹ ڈالنے کی حد تک شریک کیا گیا، جبکہ اصل فیصلے بند کمروں میں ہوتے رہے۔ اسی سوچ کا ایک بنیادی مظہر پنجاب کا موجودہ بلدیاتی نظام اور خصوصاً پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ہے، جسے بجا طور پر عوامی حلقوں میں ’’بلدیاتی کالا قانون‘‘ کہا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا حسن صرف انتخابی عمل میں نہیں بلکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ حق ہی نہ دیا جائے کہ وہ اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست جواب طلب کر سکیں تو ایسی جمہوریت ایک منظم فریب کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہی ماڈل رائج ہے، جہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں مگر مقامی حکومتوں کو یا تو مسلسل مؤخر کیا جاتا ہے یا پھر ایسے قوانین کے تحت قائم کیا جاتا ہے جو انہیں بے اختیار بنا دیتے ہیں۔
پنجاب میں 2015ء کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونا کسی انتظامی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی فیصلہ ہے۔ صوبائی حکومتیں اقتدار تو حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے کتراتی ہیں، کیونکہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام ان کی اجارہ داری کو چیلنج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں مقامی حکومتوں کے قیام کو یا تو تاخیر کا شکار بنایا گیا یا پھر انہیں بیوروکریسی کے تابع کر دیا گیا۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-اے اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ یہ شق صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ بااختیار مقامی حکومتیں قائم کریں۔ مگر پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء اس آئینی تقاضے کی روح کے منافی ہے۔ اس قانون کے تحت اختیارات عملاً منتخب نمائندوں سے چھین کر بیوروکریسی کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ میئر، چیئرمین اور کونسل کو محض نمائشی حیثیت دے کر اصل اختیار ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری افسران کے پاس رکھا گیا ہے۔ مالی خودمختاری کے بغیر کوئی بھی ادارہ بااختیار نہیں ہو سکتا، اور یہی وہ پہلو ہے جہاں پنجاب کا بلدیاتی قانون سب سے زیادہ عوام دشمن ثابت ہوتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کو اپنے وسائل پر اختیار دینے کے بجائے صوبائی حکومت کا محتاج بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی حکومتیں مسائل حل کرنے کے بجائے فائلوں، اجازت ناموں اور منظوریوں کے چکر میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اصولوں کی صریح نفی بھی ہے۔
جب گلی، محلے، یونین کونسل اور تحصیل کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی صوبائی دارالحکومت کا رُخ کرنا پڑے تو عام آدمی کے لیے ریاست ایک دور افتادہ اور بے حس قوت بن جاتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں بدعنوانی، سفارش، ناانصافی اور بدانتظامی جنم لیتی ہے۔ صاف پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل اگر مقامی سطح پر حل نہ ہوں تو قومی سطح پر بڑے منصوبے بھی عوام کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکتے۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی پاکستان کا کردار نہایت واضح اور نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت رہی ہے جس نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی۔ بلدیاتی نظام کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک رہا ہے کہ مضبوط، بااختیار اور جواب دہ مقامی حکومتیں ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کو غیر جمہوری، عوام دشمن اور آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے درست نشاندہی کی ہے کہ یہ قانون دراصل عوام سے ان کا حق ِ حکمرانی چھیننے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، نہ کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، نہ مسائل کا دیرپا حل نکل سکتا ہے اور نہ ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر محض بیانات اور احتجاجی نعروں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا، پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل سطح پر دھرنے دیے گئے، سیمینارز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے لوگوں کو ان کے آئینی حقوق سے آگاہ کیا گیا۔ یہ جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جماعت اسلامی احتجاجی سیاست نہیں بلکہ اصولی، آئینی اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اسی جدوجہد کا منطقی اور تاریخی تسلسل 15 جنوری 2026ء کو پورے پنجاب میں ہونے والا صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم ہے۔ یہ ریفرنڈم محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے اور جمہوری روایت کو مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جماعت اسلامی پہلی مرتبہ عوام سے براہِ راست یہ سوال کر رہی ہے کہ آیا وہ ایک غیر جمہوری اور بے اختیار بلدیاتی نظام کو قبول کرتے ہیں یا حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام چاہتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فیصلے عموماً بند کمروں میں ہوتے رہے ہیں۔ عوام کو صرف نتائج سے آگاہ کیا جاتا ہے، رائے لینے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی اس روایت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کر رہی ہے۔ یہی جمہوریت کا اصل حسن اور اصل روح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام سے سب سے زیادہ خوف سیاسی اشرافیہ کو ہوتا ہے۔ مضبوط مقامی حکومتیں ایم این اے اور ایم پی اے کی اجارہ داری کو چیلنج کرتی ہیں، ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال پر قدغن لگاتی ہیں اور عوام کو سوال کرنے، احتساب کرنے اور فیصلوں میں شریک ہونے کی طاقت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت کسی نہ کسی بہانے سے بلدیاتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
پندرہ جنوری دو ہزار چھبیس کا عوامی ریفرنڈم پنجاب کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دن اس بات کا اعلان ہو گا کہ اب فیصلے صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ عوام کی رائے سے ہوں گے۔ اگر عوام نے بھرپور شرکت کی تو یہ پیغام واضح ہو گا کہ بلدیاتی کالا قانون ناقابل ِ قبول ہے اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جماعت اسلامی کی یہ جدوجہد کسی ایک قانون کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے، کسی حکومت کی مہربانی نہیں۔ عوامی ریفرنڈم دراصل اسی حق کے حصول کی ایک پْرامن، آئینی اور باوقار کوشش ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان میں جمہوریت واقعی پنپ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی ریفرنڈم مقامی حکومتیں بلدیاتی نظام جماعت اسلامی پاکستان میں ا ئینی اور نہیں بلکہ اور عوامی اور عوام ہوتا ہے عوام کو ہو سکتا ہے اور رہی ہے بلکہ ا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔