بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دے دیا۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ نے کیس کی سماعت کی، 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا۔
آئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ کی بلوچستان حکومت کے خلاف دائر پٹیشن مسترد کرتے ہوئے ’’دوہرا پہلو اصول‘‘ کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کو آئینی قرار دیا۔
تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، اس لیے قانون درست ہے۔ معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی لیبر ویلفیئر کے لیے ہے، مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ صوبائی قانون وفاقی اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ آئینی ہم آہنگی میں ہے۔
درخواست گزار کی استدعا تھی کہ بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے ایکسائز ڈیوٹی میں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی لگانا وفاقی اختیار ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہیں۔
بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں بڑا اضافہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ایکسائز ڈیوٹی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز