ولی بابر قتل کیس، 15 سال میں مقدمہ انجام کو نہ پہنچ سکا، 6 گواہان سمیت 9 افراد پے در پے وارداتوں میں قتل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ولی بابر قتل کیس کے پراسیکیوٹر مشہور وکیل نعمت علی رندھاوا کو 26 ستمبر 2013ء کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں کار پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ قتل کیس کے اہم تفتیش کار انسپکٹر شفیق تنولی اور 3 ساتھی اہلکار کو 24 اپریل 2014ء کو پی آئی بی کالونی میں فائرنگ اور بم دھماکا کرکے قتل کیا گیا۔ ولی بابر کو کیوں قتل کیا گیا؟ اس سوال کا جواب سرکاری طور پر ابھی تک نہیں دیا جا سکا۔ اسلام ٹائمز۔ نجی ٹی وی کے رپورٹر ولی خان بابر کے قتل کو 15 سال گزر گئے لیکن انصاف کے حصول کی کوششوں میں 6 گواہوں سمیت 9 متعلقین قتل کیے جا چکے ہیں اور کیس ابھی تک منقطی انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011ء کی رات کراچی میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے لیاقت آباد میں سپرمارکیٹ کے سامنے کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سال 2014ء میں مقدمے میں مرکزی کردار فیصل موٹا، محمد علی رضوی، شاہ رخ عرف مانی، نوید عرف پولکا اور شکیل عرف ملک کو سزائے موت سنائی تھی۔
مرکزی کردار فیصل موٹا سمیت کئی ملزمان کو 2015ء میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا، مفروری میں سزا پانے والے فیصل موٹا کی اپیل پر یہ مقدمہ اب دوبارہ زیر سماعت ہے۔ ولی بابر کے قتل میں ملوث گاڑی کے ایم سی کے افسر لیاقت علی کی تھی، اشتہاری ملزم لیاقت علی 26 مئی 2012ء کو شفیق تنولی نے کلفٹن میں مشکوک مقابلے میں ہلاک کیا، قتل میں ملوث گاڑی برآمد کرانے والے رجب بنگالی کو 29 جنوری، گاڑی کا نمبر نوٹ کرنے والے پولیس اہلکار آصف رفیق کو واردات کے 18 دن بعد 31 جنوری کو لیاقت آباد میں گھر سے باہر بلوا کر قتل کیا گیا۔
رجب بنگالی کی لاش کے ساتھ ملی پرچی پر لکھے نام پولیس افسر ارشد کنڈی کو 20 مارچ 2011ء کو گلزار ہجری لائن کے باہر فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ ولی بابر کے قتل کے 85 دن بعد 7 اپریل کو واردات میں ملوث 5 ملزمان گرفتار کیے گئے، ملزمان کو گرفتار کرنے والے پولیس افسر شفیق تنولی کو لائیو پریس کانفرنس کے چند منٹ بعد گمنام فون کال میں تحفہ ملنے کا کہا گیا جس کے 8 گھنٹے بعد ایس ایچ او شفیق تنولی کے بھائی نوید تنولی کو گلشن اقبال میں مار دیا گیا۔ شفیق تنولی کے ساتھی اہلکار فیصل تنولی کو 11 دسمبر 2011ء کو گلستان جوہر میں فائرنگ سے ہلاک کیا گیا جب کہ ولی بابر کیس کے اہم گواہ حیدر علی عرف سلیم نے 13 نومبر کو عدالت میں گواہی دینا تھی اسے 11 نومبر 2012ء کو سولجر بازار میں گھر میں گھس کر قتل کردیا گیا۔
ولی بابر قتل کیس کے پراسیکیوٹر مشہور وکیل نعمت علی رندھاوا کو 26 ستمبر 2013ء کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں کار پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ قتل کیس کے اہم تفتیش کار انسپکٹر شفیق تنولی اور 3 ساتھی اہلکار کو 24 اپریل 2014ء کو پی آئی بی کالونی میں فائرنگ اور بم دھماکا کرکے قتل کیا گیا۔ ولی بابر کو کیوں قتل کیا گیا؟ اس سوال کا جواب سرکاری طور پر ابھی تک نہیں دیا جا سکا۔ تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ بانی ایم کیو ایم کی سابقہ اہلیہ کا انٹرویو کرنے کی کوشش پر ولی خان بابر کو شہید کرایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرکے قتل کیا گیا فائرنگ کرکے شفیق تنولی قتل کیس کے ولی بابر بابر کو
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔