اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ایف بی آر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور اشیا کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کو اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کی روک تھام کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس نظام کے ذریعے نہ صرف مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی بلکہ غیرقانونی تجارت میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان پر قابو پایا جا سکے گا۔

ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ادارے نے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے قیام کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں موجود موجودہ چیک پوسٹوں کو بھی مرحلہ وار ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ نگرانی کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے عملے کے لیے واضح قواعد و ضوابط، آپریشنل طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت خالی اسامیوں پر آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ افسران اور سپاہیوں کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، تاکہ تجربہ کار افرادی قوت کے ذریعے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق جدید ڈیجیٹل نظام، ڈیٹا شیئرنگ، مانیٹرنگ اور ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے اشیا کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف غیرقانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ قانونی کاروبار کرنے والوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے قیام کو حکومت کی وسیع تر اقتصادی اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا، ریونیو میں اضافہ اور قانون کی عملداری کو مضبوط بنانا ہے۔ ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ اس جدید نظام کے نفاذ اسے سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کے خلاف ایک مؤثر اور پائیدار فریم ورک قائم ہو سکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن ایف بی آر کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی