غیرقانونی تجارت روکنے کا جدید نظام:ایف بی آر نے 10 ارب روپے مانگ لیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ایف بی آر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور اشیا کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کو اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کی روک تھام کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس نظام کے ذریعے نہ صرف مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی بلکہ غیرقانونی تجارت میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان پر قابو پایا جا سکے گا۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ادارے نے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے قیام کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں موجود موجودہ چیک پوسٹوں کو بھی مرحلہ وار ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ نگرانی کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے عملے کے لیے واضح قواعد و ضوابط، آپریشنل طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت خالی اسامیوں پر آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ افسران اور سپاہیوں کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، تاکہ تجربہ کار افرادی قوت کے ذریعے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق جدید ڈیجیٹل نظام، ڈیٹا شیئرنگ، مانیٹرنگ اور ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے اشیا کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف غیرقانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ قانونی کاروبار کرنے والوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے قیام کو حکومت کی وسیع تر اقتصادی اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا، ریونیو میں اضافہ اور قانون کی عملداری کو مضبوط بنانا ہے۔ ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ اس جدید نظام کے نفاذ اسے سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کے خلاف ایک مؤثر اور پائیدار فریم ورک قائم ہو سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن ایف بی آر کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔