امریکی امیگریشن قوانین کیخلاف ورزی، 1 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا نے رواں سال کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیئے۔ جن میں تقریباً 8 ہزار طلبا کے ویزے بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ویزے امریکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت پالیسی کے تحت منسوخ کیے گئے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اب تک منسوخ کیے گئے ویزوں میں 2 ہزار 500 ایسے افراد بھی شامل ہیں۔ جن کے پاس خصوصی کام کے اجازت نامے تھے۔ لیکن انہوں نے کسی نہ کسی صورت امریکی قانون کی خلاف ورزی کی۔
حکام کے مطابق ویزے منسوخ کرنے کی کارروائیاں ان غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی گئیں۔ جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ، قانونی خلاف ورزیوں یا دیگر قابل اعتراض شواہد موجود تھے۔
محکمہ خارجہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اپنائے گئے۔ جو سخت امیگریشن پالیسیوں کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ جن کے تحت اب ویزا ہولڈرز کی امریکا میں داخلے کے بعد بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاکہ کسی گرفتاری، سزا یا قانونی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
منسوخ کیے گئے ویزوں کا تعلق مختلف کیٹیگریز سے ہے۔ جن میں سیاحتی، تعلیمی، ہنرمند ورک ویزے اور دیگر غیر ملکی زائرین شامل ہیں۔ امریکا کے ویزے منسوخی کے عمل سے سب سے زیادہ بھارت متاثر ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویزے منسوخ غیر ملکی
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔