میثاق جمہوریت کا مسودہ نہیں آیا، رانا ثناء: بامعنی مذاکرات ہی نیا معاہدہ: اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود اچکزئی کے ساتھ ہوئی تو تقرر ہو جائے گا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اکثریت محمود اچکزئی کے ساتھ ہے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف کا تعین ہو سکتا ہے۔ قائد حزب اختلاف کے تقرر میں ایک آدھ دن سے زیادہ نہیں لگے گا۔ محمود اچکزئی ہمارے لئے قابل احترام ہیں، محمود اچکزئی اپوزیشن کو قبول ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف میثاق جمہوریت کا کوئی مسودہ سامنے نہیں لائی، میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے پہیہ جام کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ملاقات کریں تو ہو جائے گی۔ دوسری جانب اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک کو نئے میثاق کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بامعنی مذاکرات ہوں جس کا مطلب نیا میثاق جمہوریت ہے، صحیح معنوں میں جب انتخابات ہوں گے، منتخب پارلیمنٹ ہوگی تب ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میثاق جمہوریت محمود اچکزئی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔