پولیس کے مطابق 2 جنوری 2026 کو شہید آباد نزد فوجی اسٹینڈ نوجوان شاہ زیب کو گھر کے قریب ڈکیتوں نے یرغمال بنایا۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور میں 20 ہزار روپے کے موبائل فون کیلیے نوجوان کو قتل کردیا جبکہ ملزمان چھاپے کیلیے جاتے وقت اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں پشتخرہ کے علاقے شہید آباد میں صرف 20 ہزار روپے کے موبائل فون کی خاطر ایک ماں کا جوان بیٹا بے دردی سے قتل کیے جانے کا واقعہ جہاں پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر گیا وہیں پولیس کی بروقت، مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی کارروائیوں نے خونی راہزنی کے اس کیس کو انجام تک پہنچا دیا۔ پولیس کے مطابق 2 جنوری 2026 کو شہید آباد نزد فوجی اسٹینڈ نوجوان شاہ زیب کو گھر کے قریب ڈکیتوں نے یرغمال بنایا۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے، مقتول کے والد مرتضیٰ ولد عبد الحمید کی مدعیت میں تھانہ پشتخرہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے نتیجے میں پولیس نے واردات میں ملوث دونوں ملزمان سعید اللہ عرف ڈائناسور اور شاہ زیب عرف گوپھی کو گرفتار کر لیا، جنہوں نے دورانِ تفتیش خونی راہزنی سمیت متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔ گرفتار ملزمان کو آج شہید آباد کے علاقے میں موقع نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ قبرستان کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس پارٹی محفوظ رہی، تاہم پولیس کے زیر حراست دونوں ملزمان گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی پشتخرہ سرکل عمر آفریدی بھاری نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے، جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ایس پی کینٹ عبد اللہ احسان نے بتایا کہ  ہلاک ہونے والے ملزمان ہی وہی ڈکیت تھے جنہوں نے 2 جنوری کو خونی راہزنی کے دوران نوجوان شاہ زیب کو بے دردی سے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فائرنگ کر شہید آباد کے مطابق میں ملوث شاہ زیب قتل کر ہو گئے

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک