Jasarat News:
2026-06-02@23:55:37 GMT

کوئی ونڈر بوائے نہ ہی سونے کی جگہ ہیرا آئے گا، رانا ثنا

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:وفاقی مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی سونے کی جگہ ہیرا آئے گا۔

 علینہ شگری کے ساتھ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ شام کو 20 سے 25 ٹاک شوز ہونے ہوتے ہیں، اِس طرح کی ا سٹوریز آتی رہنی چاہییں اور اس پر گفتگو بھی ہوتی رہنی چاہیے لیکن کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی سونے کی جگہ ہیرا آئے گا۔

ایک سوال پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءنے جواب دیا کہ پی ٹی آئی مزاحمت کا فیصلہ کر چکی ہے، اِسی لیے 8 فروری تک تو کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

اگر یقین دہانی کروائی جائے کہ عمران خان کی ملاقات کو 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال کےلیے استعمال نہیں کیا جائے گا تو کل صبح ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔

 عظمیٰ خان یقین دہانی کروائیں کیونکہ ان کی عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی ہے، میں نے محمود خان اچکزئی کو وزیراعظم سے ملاقات کی آفر کی تھی مگر وہ پہلے اڈیالہ جیل جانا چاہتے ہیں۔

رانا ثنااللہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال بری طرح ناکام ہوگی، سہیل آفریدی کے لاہور اور کراچی جانے سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں، چند لوگوں سے خطاب کرنے سے تحریکیں نہیں چلتیں۔

 سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کے معاملے پر سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا ہے، پنجاب میں بھی سہیل آفریدی کو ویلکم کیا گیا اور انہیں پنجاب اسمبلی آنے کی دعوت دی گئی، تاہم انہوں نے 35 افراد کے نام دیے اور اسمبلی 150 افراد کے ساتھ پہنچ گئے جس سے ماحول خراب ہوا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کوئی سنجیدہ تیاری موجود نہیں، 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

 پی ٹی آئی کی پہیہ جام کی ہڑتال اپنی جماعت کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ ہے، فی الحال پی ٹی آئی کسی تحریک کو چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، پی ٹی آئی کا عمل قابلِ اعتراض ہے اگرچہ پی ٹی آئی کہتی ہے وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی لیکن وہ ان افواجِ پاکستان کی بھی حمایت نہیں کرتی جو دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی پہیہ جام آئے گا

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ