ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کا جلد نمٹانے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کا جلد نمٹانے کا عندیہ
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کیس کے آخری مراحل میں داخل ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے فریقین کو پانچ دن کے اندر تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت انہوں نےریمارکس دیےکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کیس میں تفتیش کا عمل کافی سست رہا ہے،تاہم عدالت کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتی کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔
جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ تحریری معروضات موصول ہونے کے بعد عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔ دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نےعدالت کوآگاہ کیاکہ ابتدائی طور پرکینیا کی حکومت نےتفتیش میں تعاون سےانکارکردیاتھا،تاہم گزشتہ سال ستمبرمیں پاکستان اورکینیا کےدرمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کا معاہدہ طے پایا۔جیسے ہی کینیا کی حکومت مزید تفتیش کے لیے آمادگی ظاہر کرےگی،پاکستانی تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجی جائے گی۔
جسٹس عامرفاروق نےاستفسارکیاکہ دونوں ممالک کےدرمیان معاہدے کےبعد کیس میں مزید کیا پیشرفت ممکن ہے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےبتایا کہ چالان میں دو ملزمان کو نامزد کیاجاچکا ہے جبکہ کینیا میں موجود ملزمان کے بلیک وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمزید بتایا کہ وزیراعظم نےخودکینیا کےصدر سےفون پر رابطہ کیا ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے،سماعت کے دوران عمران فاروق قتل کیس کا بھی حوالہ دیا گیا۔
جسٹس عامر فاروق نےکہا کہ عمران فاروق کا قتل انگلینڈ میں ہوا تھا اور اس کیس میں پاکستان اور برطانیہ کی پولیس نےملکرتفتیش کی تھی۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمؤقف اختیارکیا کہ عمران فاروق اورارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت تحریری معروضات جمع ہونے تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل وفاقی ا ئینی عدالت ارشد شریف قتل کیس کیس کی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔