Jasarat News:
2026-07-24@05:03:52 GMT

بلدیاتی قانون کیخلاف عوامی ریفرنڈم کل ہوگا،جاوید قصوری

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-11-12
لاہور(وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے صوبائی دفتر منصورہ میں ڈاکٹر بابر رشید سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اور محمد فاروق چوہان سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پنجاب کے ہمراہ حکومت پنجاب کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف اور جماعت اسلامی کے لاہور سمیت پورے صوبے میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15تا 18 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی ایکٹ کے کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس عوامی ریفرنڈم میں ہر سیاسی جماعت کے کارکنان، سول سوسائٹی، وکلاء ، طلبہ، تاجر برادری اور عام شہری بلا تفریق بھرپور شرکت کریں گے۔ بلدیاتی ایکٹ کا موجودہ قانون عوام کے حقِ نمائندگی پر کھلا ڈاکہ ہے۔ یہ قانون مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مفلوج کرنے کی سازش ہے۔ جماعت اسلامی اس عوام دشمن قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور جب تک حکومت اس متنازعہ قانون کو سب کے لیے قابل قبول نہیں بناتی اور اس میں ضروری ترامیم نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکس بڑی تعداد میں تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ہر اہم چوک، چوراہے، بازار اور مصروف عوامی مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں علیحدہ پولنگ پوائنٹس اور رضاکار خواتین کی خدمات شامل ہیں۔ یہ ریفرنڈم کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور مقامی جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ عوام گھروں سے نکل کر اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور حکومت کو واضح پیغام دیں کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، بااختیار بلدیاتی نظام اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے عوام کو نچلی سطح پر اپنے مسائل کے حل اور فیصلوں میں براہِ راست شرکت کا موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں نافذ کیا گیا پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ جمہوری اقدار اور عوامی حقِ حکمرانی پر بھی ایک سنگین حملہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات سے سیاسی عمل مضبوط ہوتا ہے، عوام کو واضح سیاسی نظریات اور منشور کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے اور نمائندوں کی جواب دہی یقینی بنتی ہے۔ غیر جماعتی انتخابات درحقیقت جمہوریت کو کمزور کرنے اور مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جس کا خمیازہ ہمیشہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوسی چیئرمین کا انتخاب عوام کے براہِ راست ووٹوں سے کیا جائے۔ بالواسطہ نظامِ انتخاب عوامی رائے کو کمزور اور سودے بازی کو فروغ دیتا ہے۔ جب عوام خود اپنے چیئرمین کا انتخاب کریں گے تو اس نمائندے کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا اور وہ حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گا۔بلدیاتی حکومتوں کو آئین کے مطابق مکمل مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات دیئے جائیں۔ اختیارات کے بغیر بلدیاتی ادارے محض نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ جب تک مقامی حکومتوں کو اپنے وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں کا اختیار نہیں دیا جائے گا، تب تک نچلی سطح پر حقیقی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔امیر جماعت اسلامی پنجاب کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں اختیارات کی منتقلی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔سرکاری افسران اور بیوروکریسی کو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت کیا جائے۔ جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ منتخب نمائندے پالیسی بنائیں اور سرکاری افسران ان پالیسیوں پر عملدرآمد کریں۔ بدقسمتی سے موجودہ قانون کے تحت بیوروکریسی کو بالادست رکھا گیا ہے، جس سے عوامی نمائندے بے اختیار اور نظام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوامی امنگوں کے سراسر خلاف ہے۔پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 ایک کالا قانون ہے، جو آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنا ہے۔ حکومتِ پنجاب آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنائے، جماعتی بنیادوں پر شفاف انتخابات کا اعلان کرے، بڑے شہروں کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا جائے اور ضلعی حکومتوں کو بھی با اختیار بنایا جائے۔

وقائع نگار خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پنجاب عوامی ریفرنڈم بلدیاتی ایکٹ حکومتوں کو عوام کے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن