بلدیاتی قانون کیخلاف عوامی ریفرنڈم کل ہوگا،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260115-11-12
لاہور(وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے صوبائی دفتر منصورہ میں ڈاکٹر بابر رشید سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اور محمد فاروق چوہان سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پنجاب کے ہمراہ حکومت پنجاب کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف اور جماعت اسلامی کے لاہور سمیت پورے صوبے میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15تا 18 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی ایکٹ کے کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس عوامی ریفرنڈم میں ہر سیاسی جماعت کے کارکنان، سول سوسائٹی، وکلاء ، طلبہ، تاجر برادری اور عام شہری بلا تفریق بھرپور شرکت کریں گے۔ بلدیاتی ایکٹ کا موجودہ قانون عوام کے حقِ نمائندگی پر کھلا ڈاکہ ہے۔ یہ قانون مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مفلوج کرنے کی سازش ہے۔ جماعت اسلامی اس عوام دشمن قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور جب تک حکومت اس متنازعہ قانون کو سب کے لیے قابل قبول نہیں بناتی اور اس میں ضروری ترامیم نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکس بڑی تعداد میں تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ہر اہم چوک، چوراہے، بازار اور مصروف عوامی مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں علیحدہ پولنگ پوائنٹس اور رضاکار خواتین کی خدمات شامل ہیں۔ یہ ریفرنڈم کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور مقامی جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ عوام گھروں سے نکل کر اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور حکومت کو واضح پیغام دیں کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، بااختیار بلدیاتی نظام اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے عوام کو نچلی سطح پر اپنے مسائل کے حل اور فیصلوں میں براہِ راست شرکت کا موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں نافذ کیا گیا پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ جمہوری اقدار اور عوامی حقِ حکمرانی پر بھی ایک سنگین حملہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات سے سیاسی عمل مضبوط ہوتا ہے، عوام کو واضح سیاسی نظریات اور منشور کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے اور نمائندوں کی جواب دہی یقینی بنتی ہے۔ غیر جماعتی انتخابات درحقیقت جمہوریت کو کمزور کرنے اور مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جس کا خمیازہ ہمیشہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوسی چیئرمین کا انتخاب عوام کے براہِ راست ووٹوں سے کیا جائے۔ بالواسطہ نظامِ انتخاب عوامی رائے کو کمزور اور سودے بازی کو فروغ دیتا ہے۔ جب عوام خود اپنے چیئرمین کا انتخاب کریں گے تو اس نمائندے کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا اور وہ حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گا۔بلدیاتی حکومتوں کو آئین کے مطابق مکمل مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات دیئے جائیں۔ اختیارات کے بغیر بلدیاتی ادارے محض نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ جب تک مقامی حکومتوں کو اپنے وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں کا اختیار نہیں دیا جائے گا، تب تک نچلی سطح پر حقیقی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔امیر جماعت اسلامی پنجاب کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں اختیارات کی منتقلی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔سرکاری افسران اور بیوروکریسی کو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت کیا جائے۔ جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ منتخب نمائندے پالیسی بنائیں اور سرکاری افسران ان پالیسیوں پر عملدرآمد کریں۔ بدقسمتی سے موجودہ قانون کے تحت بیوروکریسی کو بالادست رکھا گیا ہے، جس سے عوامی نمائندے بے اختیار اور نظام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوامی امنگوں کے سراسر خلاف ہے۔پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 ایک کالا قانون ہے، جو آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنا ہے۔ حکومتِ پنجاب آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنائے، جماعتی بنیادوں پر شفاف انتخابات کا اعلان کرے، بڑے شہروں کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا جائے اور ضلعی حکومتوں کو بھی با اختیار بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پنجاب عوامی ریفرنڈم بلدیاتی ایکٹ حکومتوں کو عوام کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔