Jasarat News:
2026-07-24@10:47:31 GMT

افغانستان کا اونٹ، کس کی مانیں کس کی نہیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

افغانستان کے بارے میں ایک مفتی صاحب کی پوڈ کاسٹ ایک واٹس اپ گروپ میں دیکھی تو ایک فلم نظروں کے سامنے گھوم گئی، سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے، آپ بھی کچھ حصہ دیکھیں۔ مختلف بیانیے آتے رہے، قوم یقین کرتی رہی۔

پہلا بیانیہ: افغانستان دوست نہیں، پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، ڈیورنڈ لائن کا بھی تنازع ہے۔ دوسرا بیانیہ: روس افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے بے گھر افغان ہمارے بھائی ہیں، ان کی مدد کی جائے۔ تیسرا بیانیہ: افغان مجاہدین پاکستان اور دنیا کا تحفظ کررہے ہیں۔ یہ مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، دنیا ہمیں (پاکستان) مدد دے، اسلحہ اور مال بھی۔ اور خوب جمع بھی کیا گیا۔ اس دور میں افغان مہاجرین کے لیے آنے والے بٹر آئل کے ڈبے باقاعدہ سرکاری یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہوتے تھے اور ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ ڈبوں پر لکھی عبارت بھی جوں کی توں لکھی رہتی تھی، only for afghan refugies۔ چوتھا بیانیہ: افغانستان میں جہاد نہیں ہورہا، یہ دہشت گرد ہیں، اور اب بیان آگیا ہے کہ جہاں پائو انہیں ماردو۔ چوالیس سالہ صحافت میں افغانستان جاکر بھی دیکھا ہے پاکستان میں ان کی خیمہ بستی میں بھی دیکھی، ان مہاجر بچوں اور بڑوں کو محنت مزدوری کرتے بھی دیکھا۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان جنرل ضیاء الحق کا دور جہاد کا دور تھا، بے نظیر نواز شریف کے ادوار نیمے دروں نیمے بروں، ادھا تیتر ادھا بٹیر، پھر آئے جنرل پرویز مشرف، یہ دور کمال کا رہا کشمیری مجاہد ان کے پہلے سال کے دوران مجاہد رہے دوسرے سال وہ بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر رہے پھر غدار، دہشت گرد اور ’’جہاں پائو انہیں مارو‘‘ بنادیے گئے، اسی دور میں ٹی ٹی پی تخلیق کی گئی، ٹی ٹی پی برصغیر، پھر پنجاب اور مزید ٹکڑے دریافت ہوئے۔

اب حقائق بھی جان لیں افغانستان کی پہلی مزاحمت بالکل اصلی اور عوامی تھی، سارے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ اور عام نوجوان تھے، انجینئر حکمت یار سمیت درجنوں رہنما انجینئرنگ کے طلبہ تھے، ابتدائی تمام مزاحمت پاکستان اور ان مجاہدین نے کی، اس وقت ہنری کسنجر نے ماننے سے انکار کیا کہ روس کو افغانستان سے نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن جب روس کے قدم پاکستان اور مجاہدین نے روک دیے، تو امریکا بہادر کودا، فنڈز اور اسلحہ دیا پروپیگنڈا مشینری کھول دی گئی اور افغان مجاہدین میں پھوٹ ڈلوا دی گئی، ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے والوں میں تصادم شروع ہوگئے، اس دوران سفید ریچھ (روس) اتنا زخمی ہوا کہ واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا جب روس نے واپسی کا فیصلہ کیا تو افغان مجاہدین نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا، یہاں سے امریکا اور اس کے نوکروں کی مداخلت شروع ہوئی، اگر مجاہدین کو خود کچھ کرنے دیا جاتا تو خرابی نہ ہوتی انہیں بیرون افغانستان سے کنٹرول کرنا شروع کیا گیا اور اس کا بہت نقصان ہوا۔ کچھ دھڑے گڈ کوپ کچھ بیڈ کوپ قرار پائے، جب بہت فساد ہوگیا ایک دوسرے کی مدد کرکے لڑوا لیا تو امن کی سوجھی، طالبان تخلیق کیے گئے، پھر جنگ ہوئی پھر طالبان فتحیاب ہوئے، حکمت یار صرف یہ کہہ کر افغانستان سے نکل گئے کہ وہ پاکستان سے نہیں لڑ سکتے، یعنی طالبان پاکستان کی پروڈکٹ ہیں اور ہم پاکستان سے نہیں لڑیں گے۔ (یہ میزبانی کا حق ادا کیا گیا، یعنی افغان احسان فراموش نہیں) افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، جی ایسا ہوا تھا، لیکن پاکستان کی جانب سے تو دو تین افغان حکومتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پھر شکوہ ختم اسکور ہمارا زیادہ ہے، اور تسلیم نہ کرنے کے باوجود سرحدی تنازعات کے ساتھ مال تجارت کی آمد ورفت جاری ہے، کیا ہوا اگر اس سے مہنگائی ہوجاتی ہے دونوں طرف کے حکمرانوں کو تو فرق نہیں پڑتا۔ آگے چلیں جب یہی طالبان بامیان کے بت توڑنے لگے اور امریکا بہادر ناراضی پر اُتر آیا تو ان طالبان کے خلاف مہم شروع کی گئی، مجاہدین سے دنیا کی جان چھڑانے والے طالبان بھی دہشت گرد قرار پائے اور انہیں افغانستان کی حکمرانی سے محروم کردیا گیا۔ اب وہاں امریکی ایجنٹوں کی حکمرانی ہوگئی۔

اگلا مرحلہ جانیے، یہاں تک کی صورتحال یہ رہی کہ پہلی مرتبہ روس افغانستان میں داخل ہوا تو پاکستان، امریکا، سعودی عرب سمیت ساری دنیا اس کے خلاف رہی اور دس سال بعد بمشکل اسے افغانستان سے نکالا جاسکا، پاکستان کے سارے علماء سیاسی رہنماؤں کی اکثریت اس عمل میں ساتھ تھی، یہ جملہ مشہور ہوا کہ روس کو افغانستان سے اس لیے نکالا جاسکا کہ پیچھے پاکستان تھا اور فلسطین اس لیے آزاد نہیں ہورہا کہ اس کی سرحد پر پاکستان نہیں، اس میں یہ جملہ نہیں تھا کہ کشمیر کی سرحد پر بھی تو پاکستان ہے وہ کیوں آزاد نہیں ہوا۔ دوسری مرتبہ طالبان کو ہٹانے میں پاکستان، امریکا اور ساری دنیا ساتھ تھی، اس کے بعد یہی موجودہ طالبان اور آج کے دہشت گردامریکا سے تنہا لڑتے رہے، ان کی پشت پر پاکستان تھا نہ امریکا، سعودی عرب تھا نہ امارات اور نہ یورپ، لیکن دس کے بجائے بیس سال میں امریکا پٹ پٹ کر نکلنے پر مجبور ہوگیا، اور اسی امارت اسلامیہ افغانستان سے مذاکرات کرکے وہاں سے بھاگتے ہوئے اپنا اسلحہ پاکستان اور اسلام کے دشمن گروہوں کے حوالے کرگیا، جو آج طالبان اور پاکستان دونوں کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں، افغان امارت پاکستان پر اور پاکستان طالبان پر الزام عاید کررہا ہے کہ وہ بدامنی کے ذمے دار ہیں، لیکن اصل کھلاڑی امریکا ہے جو بیس سال افغانوں سے پٹ کر وہاں سے بھاگا ہے اور جہاں سے بھاگا یہی فساد کے بیج بوکر بھاگا۔ ویتنام، عراق اور افغانستان سب سامنے ہیں۔

اب یہ بتائیں کہ ہم عوام کس کی مانیں، ہمارے سارے علماء یا ان کی اکثریت افغان جہاد اور پھر طالبان کی حامی تھی، اب وہ والے پیچھے چلے گئے ہیں اور نئے آگے آئے یا لائے گئے ہیں، اب وہ گڈ کوپ، بیڈ کوپ ہوگئے ہیں۔ تو بھائی لوگو افغان جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہیں، ہمارے اور ان کے پاس ایک جیسے علما ہیں ان سے دونوں طرف کے مقتدر طبقے مرضی کا بیان دلوا سکتے ہیں، یہ کھیل 1979 سے چل رہا ہے، اور صرف افغانستان میں نہیں ساری دنیا میں کھیلا جارہا ہے۔ مزید جانیے 1960 میں امریکا کو پاکستان کی ضرورت تھی 1958 میں ایوب خان لائے گئے، کسی خان کا امریکا میں ایسا استقبال نہیں ہوا جیسا ایوب خان کا ہوا تھا۔ یعنی دوسال قبل سے تیاری تھی، 79 میں روس افغانستان میں داخل ہوتا ہے، دوسال قبل جنرل ضیاء الحق آجاتے ہیں، 2000 میں امریکا کو افغانستان میں داخل ہونا تھا، 1999 میں جنرل مشرف آجاتے ہیں، یعنی پہلے سے تیاری ہوتی ہے۔ اب بھی ہم افغانوں کو، سعودی ایران کو، یمنی سعودی عرب کو اور ہر مظلوم یا امریکا کا ہر شکار اپنے ہی پڑوسی کو برا کہتا اور لڑتا ہے۔ آج بھی سمجھ لیں تو ریورس گیئر لگ سکتا ہے، ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان سے افغانستان کے پاکستان اور ان مجاہدین پاکستان کی تسلیم نہ کیا گیا اور اس

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران