پاکستان 500 بنگلا دیشی طلبہ کو اپنی جامعات میں داخلے دے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلیمی میدان میں بھی معاہدہ طے پا گیا، پہلے مرحلے میں 500 بنگلا دیشی طلبہ کو پاکستانی جامعات میں داخلے فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ 500 طلبہ کو مختلف شہروں میں مختلف یونیورسٹیز میں داخلے دیے جائیں گے، بنگلادیش کے طلبہ پاکستان میں اسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
طلبہ کو انڈر گریجویشن پروگرام میں فُلی فنڈڈ داخلے دیے جائیں گے، داخلوں کے لیے بنگلا دیشی طلبہ کی بڑی تعداد نے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کی تھی، ایچ ای سی کے تحت انٹری ٹیسٹ چٹا گانگ، ڈھاکا، راج شاہی میں منعقد کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، بنگلادیش کے درمیان سکالرشپ کو علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا، انٹری ٹیسٹ کے موقع پر بنگلادیشی نوجوانوں نے پاکستانی حکام کا گرمجوشی سے استقبال کیا، نوجوانوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلبہ کو
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔