بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر، عالمی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
نئی دہلی: عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ’انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر‘ اور ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین نے اپنی تازہ دستاویزات میں کہا ہے کہ مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات، ہندوتوا تشدد اور ریاستی طاقت کے استعمال میں اضافہ بھارتی قیادت کے متعصبانہ طرزِ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلمان ہلاک ہوئے۔ ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کے مطابق ان میں سے 23 مسلمان ہندوتوا انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں جبکہ 27 ہندو انتہا پسند حملوں میں جان سے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں 13 بھارتی ریاستوں میں 26 سے زائد منظم اجتماعی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ مذہبی بنیادوں پر سب سے زیادہ ہلاکتیں اتر پردیش میں رپورٹ ہوئیں جہاں 6 مسلمانوں کے قتل کی تصدیق کی گئی۔
گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمان ہلاک ہوئے جبکہ 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر، آسام، اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں 17 سے زائد مسلمان اور 2 بچے ریاستی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 4 ہزار سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کیا گیا جبکہ گزشتہ سال مسلمانوں کی املاک مسماری اور جبری بے دخلی کو ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔
مبصرین کے مطابق مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔