وفاقی وزیر پیٹرولیم کی گھریلو گیس کی فراہمی بہتر بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک : فائل فوٹو
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گھریلو گیس کی فراہمی بہتر بنانے کی ہدایت کردی، گیس کی طلب و رسد پر ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس کمپنیوں کو گھریلو صارفین کو فوری ریلیف دینے کی ہدایت کی ہے، صنعت سے گھریلو شعبے کو اضافی گیس منتقل کرنے کا آپشن زیر غور ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن میں روزانہ صبح 10 بجے گیس صورتحال کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں سوئی نادرن کے حکام نے بتایا کہ صنعتوں کو گیس بندش ایک دن سے دو دن کرنے پر مشاورت جاری ہے، دو گیس فیلڈز کی بحالی سے سپلائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے گھریلو صارفین کو 39 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔