کراچی میں ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل کی وجہ حکومتی نا اہلی ‘ بسوں کی کمی‘ ٹوٹی سڑکیں ہیں ،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر صدارت مقامی ہوٹل میں ’’کراچی ٹرانسپورٹ، سلگتے مسائل و حل‘‘ کے عنوان سے منعقد ہ مذاکرے میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل کی بنیادی وجہ حکومتی اداروں کی نا اہلی ، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی ، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں و تباہ حال انفرا اسٹرکچر ، تجاوزات کا قیام اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں حکومت کی مجرمانہ غفلت و لاپروائی ہے ، چند سو بسوں سے شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل نہیں ہوں گے ،کراچی کو 15ہزار بسیں ، ماس ٹرانزٹ پروگرام اور سرکلر ریلوے کی ضرورت ہے ، شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے نا مکمل اور زیر التوا تمام پروجیکٹ فی الفور مکمل کیے جائیں ، ہیوی ٹریفک سمیت سب کو قوانین کا پابند بنایا جائے ، بھاری بھر کم ای چالان سے قبل ضروری سہولیات دی جائیں ۔ مذاکرے سے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سینئر صحافی مظہر عباس ، سینئر صحافی عبد الجبار خٹک ،سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی عبدالرؤف فاروقی، ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ ،ڈاکٹر اقبال آفریدی ، ڈاکٹر ظفر فاطمی ، ڈاکٹر توحید ، آل واٹر ٹینکر اونر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی باچا خان، جے آئی یوتھ کراچی کے سیکرٹری اسماعیل بلوچ و دیگر نے خطاب کیا۔نظامت کے فرائض نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے ادا کیے ۔منعم ظفر خان نے مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو جوکام 15سال قبل کرنے چاہیے تھے وہ آج تک نہیں کیے گئے ، حکومت کی 5ڈبل ڈیکر اور بی آر ٹی و لال بسوں سمیت 450بسوں اور تقریباً800نجی بسوں سے اہل کراچی کے سنگین ٹرانسپورٹ مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے ، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی ذمے داری پوری نہیں کرے گی اور صرف اعلانات و بیانات تک محدود رہے گی تو کراچی کے عوام آئندہ بھی اذیت کا شکار رہیں گے ، آج کا مذاکرہ اہل کراچی کی ایک ’’لائوڈ تھنکنگ ‘‘ ہے ، مسائل کے حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور حکمران پارٹیاں اپنی ذمے داریاں پوری کریں ، منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ کراچی کو مافیاز کے حوالے کر دیا گیا ہے اور عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں ، مردم شماری میں کراچی کا حق مارا گیا ، کراچی پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے لیکن اسے اس کا حق نہیں دیا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ نادرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کیوں نہیں چلائی جاتی جبکہ وہاں چنگ چی رکشہ چل رہے ہیں،لنک روڈ کو ہیوی ٹریفک کے لیے استعمال کیا جا ئے ،اس سارے عمل میں ہمیں حکومت کی جانب سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی ہرصورت کرنی چاہیے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام کو کوئی ریلیف ہی نہ دیا جائے۔وی آئی پی کے لیے ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا جاتا ہے اس وقت قوانین پر عمل کیوں نہیں ہوتا۔کراچی یونیورسٹی کی 100 سے زاید بسیں چلا کرتی تھیں اور آج صرف 26 بسیں چلتی ہیں، اس کا ذمے دار کو ن ہے ؟سندھ حکومت کا کوئی بھی منصوبہ ایسا نہیں ہے کہ جس کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا گیاہواور وہ وقت پر مکمل ہو گیا ہو،حکمرانوں کی نااہلی و بے حسی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پرپہنچا دیا ہے۔ایسی صورتحال میں سب مل کر کراچی کو ایک بار پھر چمکتا دمکتا شہر بناسکتے ہیں۔ محمد فاروق نے کہاکہ کراچی میں ٹریفک کے حادثات بڑھتے جارہے ہیں ،حکومت کی جانب سے شہری سہولیات کا فقدان ہے۔بے ہنگم ٹریفک کی وجہ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہونا ہے ،کراچی کے لیے کسی کے پاس ماسٹر پلان موجود نہیں ہے ، سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے افسران وہ لوگ ہیں جنہیں ماسٹر پلان کا مطلب تک نہیں پتا ، سیاسی بنیاد پر ان کی بھرتی کی گئی ہے۔حادثات کی بڑی وجہ تجاوزات بھی ہے،جماعت اسلامی تجاوزات ختم کرنے کے حق میں ہے ،سندھ حکومت نے ای چالان کے حوالے سے کمیٹی بنائی تھی لیکن جس نے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا ہے ،جماعت اسلامی کا واضح موقف ہے کہ چالان ضرور ہونا چاہیے لیکن باقی شہروں کی طرح چالان کی رقم مناسب ہو اور اس سے پہلے حکومت کی ذمے داری ہے کہ عوام کو بہترسڑکیں دی جائیں اور سہولیات فراہم کی جائیں ۔ٹینکر مافیا ٹینکر مالکان نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ایوان صدر میں سندھ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہیں ۔سندھ حکومت کی کارکردگی کرپشن کے سوا کچھ نہیں ہے لیکن حکومتی نا اہلی اور کرپشن کا تحفظ کیا جا رہا ہے ،سینئر صحافی مظہر عباس نے کہاکہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے عملاً نہ ہونے اور سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں، کراچی ماسٹر پلان منصوبے پر اگر پہلے ہی عمل کرلیا ہوتا توآج ہم موجودہ سنگین ٹرانسپورٹ مسائل کا شکا ر نہ ہوتے۔سب سے بڑا مسئلہ کراچی کی سڑکوں کا یہ ہے کہ جب بھی سڑکیں بنائی جاتی ہیں وہ چند ماہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں ،کوئی بھی اس بات کی گارنٹی نہیں دیتا اور ذمے داری نہیں لیتا کہ یہ سڑک کتنے عرصے تک قائم رہے گی۔کراچی کی سڑکوں پر دکانیں اور ٹھیلے نہیں ہونے چاہیے ، اگر سڑکوں پر ٹھیلے ہوں گے تو موٹر سائیکل ودیگر گاڑیاں ضرور کھڑی ہوں گی جس سے ٹریفک کے مسائل تو لازمی ہوں گے۔ عبدالرؤف فاروقی نے کہاکہ شہر کراچی کو ساز ش کے تحت تباہ کیا گیا ، یہ وہ شہر تھا جہاں پورے ملک سے افراد کراچی آتے تھے۔ ماضی میں کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں لیکن اس وقت وہ مسائل نہیں تھے جو اب ہیں۔کراچی کی آبادی 4کروڑ تک پہنچ گئی ہے ۔ کراچی کو چند بسیں نہیں بلکہ ہزاروں بسیں اور ان کے لیے صاف اور کشادہ سڑکوں کی ضرورت ہے ۔حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہے ، تجاوزات ختم کرنے کا ادارہ رشوت خور بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے سڑکیں کشادہ ہونے کے بجائے سکڑ گئی ہیں اور ٹریفک جام رہتا ہے ۔حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس لیے خود بخود پرائیوٹ گاڑیاں تو سڑکوں پر آئیں گی جس کے باعث ٹریفک کا دبائو بھی بڑھے گا۔اورنج لائن اور گرین لائن سے ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔کراچی میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہائی رائز بلڈنگ بنانے کی اجازت دے دی گئی ۔ ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ نے کہاکہ گزشتہ سال حادثاتی اموات اعدادوشمار کے مطابق 814تھیںجوکہ اگلے 3ماہ میں بتدریج کم ہوئیں اور ہم نے ہر ماہ 23افراد کی زندگیاںبچائی ہیں ۔ہم نے ہیوی ٹریفک کے مسئلے کو ایڈریس کیا ، ہیوی ٹریفک کا بڑا مسئلہ تیز رفتاری اور بروقت بریک نہ لگنا تھا ، ہم نے ٹریننگ کرائی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ 16ویلر والے ٹرالر ہیں جب یہ 2بھی سڑک پر آجائیں تو سڑک جام ہوجاتی ہیں۔دوسرا بڑا مسئلہ گاڑیوں کی فٹنس کا ہے 70فیصد گاڑیوں کی فٹنس درست نہیں ہے ، ٹینکر و ٹرالر کے مالکان کے مطابق ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ انہیں ٹھیک کراسکیں ، انہیں وقت دیا جاتا ہے اس کے باوجود فٹنس بہتر نہیں کرائی جاتی اور اس میں موٹر سائیکل کی فٹنس بھی شامل ہے۔ایک اوربڑامسئلہتجاوزات کا ہے ، اگرتجاوزات ہوگی تو ٹریفک اسی طرح جام رہے گا اور مسائل جنم لیتے رہیں گے ۔ حاجی با چا خان نے کہاکہ کوئی بھی ڈرائیور نہیں چاہتا کہ وہ جان بوجھ کر کسی انسان کی جان لے ،کراچی کی سڑکوں کی حالت ایسی ہے جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ 2 سال قبل ہی واٹر ٹینکروں میں ٹریکر لگائے جاچکے ہیں۔ہمیں بھی افسوس ہوتا ہے کہ ٹینکر کی ٹکر سے کسی جان چلی جائے ، ٹینکر کے جتنے بھی ڈرائیورز ہیں ان کی ٹریننگ کی جاتی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹرانسپورٹ کے ماسٹر پلان ہیوی ٹریفک سندھ حکومت بڑا مسئلہ کراچی میں کی وجہ سے کراچی کی کراچی کو ٹریفک کے ٹریفک کا نے کہاکہ کراچی کے حکومت کی رہے ہیں نہیں ہے نہیں ہو نے کہا کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔