وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا وائٹ ہاؤس کا دورہ: نوبیل امن انعام ٹرمپ کو تحفے میں دینے کی دلچسپ کہانی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز

واشنگٹن(شاہ خالد کی خصوصی رپورٹ) وینزویلا کی ممتاز اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نایاب تحفہ پیش کیا: نوبیل امن انعام کی وہ میڈل جو انہوں نے پچھلے سال جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد پر حاصل کی تھی۔ یہ قدم ماچاڈو کی جانب سے امریکہ سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ وہ وینزویلا کے سابق حکمران نکولس مادورو کے بعد ملک کی قیادت سنبھال سکیں۔

ماچاڈو، جو مادورو کی آمرانہ حکومت کی شدید ناقد ہیں، نے وینزویلا میں جمہوری اصلاحات اور آزادانہ انتخابات کی مہم چلائی تھی۔ ان کی اس بے مثال جدوجہد کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور نوبیل کمیٹی نے انہیں امن کا انعام دیا۔ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہوئے، ماچاڈو نے یہ میڈل ٹرمپ کو پیش کیا، امید یہ تھی کہ یہ تحفہ امریکی انتظامیہ کو ان کی حمایت پر آمادہ کرے گا۔ ٹرمپ، جو پہلے بھی وینزویلا کے بحران میں مادورو کے خلاف سخت موقف اپنا چکے ہیں، کو نوبیل انعام کی یہ میڈل ایک “خوابیدہ تحفہ” قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ خود کو امن کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

تاہم، ملاقات کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوئے۔ ماچاڈو وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے ٹرمپ کے برانڈ والے ایک سوگ بیگ کے ساتھ نظر آئیں، جس میں شاید کچھ یادگاری اشیاء تھیں۔ لیکن وینزویلا کی سیاست میں ان کی حیثیت کے بارے میں کوئی ٹھوس اعلان نہیں کیا گیا۔ ماچاڈو کا سیاسی مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے، جبکہ وینزویلا گزشتہ کئی سالوں سے شدید معاشی بحران، ہائپر انفلیشن اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ مادورو کی حکومت کے خاتمے کے بعد، ملک کو ایک مستحکم اور جمہوری قیادت کی ضرورت ہے، اور ماچاڈو اس کردار کے لیے مضبوط امیدوار سمجھی جاتی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات وینزویلا کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں وینزویلا پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں اور اپوزیشن کی حمایت کی تھی، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ماچاڈو کو براہ راست سپورٹ فراہم کریں گے۔ ماچاڈو نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا، “یہ نوبیل میڈل امن کی جدوجہد کی علامت ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ یہ وینزویلا کے لوگوں کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہو گا۔”

یہ واقعہ نہ صرف وینزویلا بلکہ لاطینی امریکہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماچاڈو کی یہ حکمت عملی کامیاب ہو گی یا نہیں، یہ وقت بتائے گا، لیکن اس نے عالمی سطح پر توجہ ضرور حاصل کر لی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی کوسٹ گارڈ نے 9 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا بھارتی کوسٹ گارڈ نے 9 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا امریکا ایران پر طاقت کے استعمال کی کوشش فوری ترک کرے: چینی مندوب پاکستان کے نئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی صدر کو اسناد پیش کر دیں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: امریکا اور برطانیہ کا ایران کو سخت پیغام پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا: رضا ہراج اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، پاکستانی مندوب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وینزویلا کی وائٹ ہاؤس ٹرمپ کو

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار