سر درد کے علاج کا بھیانک انجام، خوفناک تجربے نے خاتون کی زندگی داؤ پر لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
چین کے مشرقی صوبے جیانگسو سے تعلق رکھنے والی ایک 50 سالہ خاتون سر درد کے علاج کے لیے کچی مچھلی کی پِتہ نگلنے کے بعد شدید بیمار ہو گئیں اور چند ہی گھنٹوں میں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) منتقل کرنا پڑا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون جن کا نام لیو ہے، ایک روایتی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے کچی مچھلی کی پِتہ کو دوا سمجھ کر استعمال کر بیٹھی تھیں۔ مذکورہ عقیدے کے مطابق مچھلی کا پِتہ جسم کی گرمی ختم کرنے، زہریلے مادے خارج کرنے اور آدھے سر کے درد میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ یوٹیوب ویڈیو جو آپ نے آج دیکھنی شروع کی تو ختم 140 سال بعد ہوگی، آخر ماجرا کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق 14 دسمبر کو خاتون نے مقامی مارکیٹ سے تقریباً ڈھائی کلوگرام وزنی گراس کارپ مچھلی خریدی گھر پہنچ کر اس کا پِتہ نکالا اور بغیر پکائے نگل لی۔ تاہم اس اقدام کے صرف دو گھنٹے بعد انہیں شدید قے، اسہال اور پیٹ میں درد کا سامنا کرنا پڑا۔
حالت بگڑنے پر اہل خانہ انہیں فوری طور پر اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے مچھلی کے پِتہ سے زہر خورانی اور شدید جگر فیل ہونے کی تشخیص کی۔ بعد ازاں خاتون کو جیانگسو یونیورسٹی سے وابستہ اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا
یہ بھی پڑیں: ہائی وے آف ڈیتھ اور قلعہ جنگی: کہانیاں دو، انجام ایک
ڈاکٹروں کے مطابق مریضہ کو پلازما ایکسچینج تھراپی اور مسلسل گردوں کی صفائی کے عمل سے گزارا گیا۔ پانچ روزہ انتہائی علاج کے بعد خاتون کی حالت میں واضح بہتری آئی اور انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس واقعے کی باضابطہ تصدیق 7 جنوری کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کی گئی۔
علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ مچھلی کی پِتہ نہایت زہریلا ہوتی ہے اور اس کے اثرات بہت زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق چند گرام مقدار بھی جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتی ہے جبکہ بڑی مچھلیوں کا پِتہ بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی سے جھگڑے پر سسرالیوں نے داماد کی جان لی
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کا پِتہ پکانے یا شراب میں بھگونے سے بھی غیر محفوظ ہی رہتا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو توہم پرستانہ اور غیر سائنسی علاج سے اجتناب کرنے اور کسی بھی بیماری کی صورت میں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
در درد جان لے لی سر درد سر درد تجربہ مچھلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: در درد جان لے لی مچھلی کے مطابق کا پ تہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔