ایران نازک موڑ پر: اندرونی دباؤ، بیرونی محاذ اور خطے کا مستقبل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ایران نازک موڑ پر: اندرونی دباؤ، بیرونی محاذ اور خطے کا مستقبل WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
شاویز ہاشمی
ایران ایک قدیم تہذیب، مضبوط ریاستی ڈھانچے اور مشرقِ وسطیٰ میں گہرے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والا ملک ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ، ثقافتی تسلسل اور نظریاتی شناخت نے ایران کو خطے میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ تاہم آج ایران اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے، جہاں اندرونی دباؤ، طویل بیرونی پابندیاں اور عالمی سیاست کی بدلتی ترجیحات نے اسے ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران کو درپیش سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ پر ہے۔ برسوں سے عائد امریکی اور مغربی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، بینکاری نظام کی محدود رسائی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام، خصوصاً نوجوان نسل، کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج کا ایرانی نوجوان آزادیِ اظہار، سماجی حقوق اور بہتر معاشی مواقع کا خواہاں ہے۔ یہ خواہشات ایک فطری عمل کا حصہ ہیں، جو کسی بھی زندہ اور متحرک معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔
ایرانی معاشرے میں مذہبی اور غیر مذہبی طبقات کے درمیان ایک واضح فرق ضرور موجود ہے، تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ اکثریت نظام کی مکمل تبدیلی کی خواہاں ہے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایرانی عوام کی بڑی تعداد اسلامی نظام کی حامی ہے، مگر وہ حکمرانی کے طریقۂ کار، شفافیت اور معاشی انصاف میں بہتری چاہتی ہے۔ موجودہ احتجاجی تحریک کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر اصلاحات اور بہتری کا مطالبہ ہے، نہ کہ نظام کے مکمل خاتمے کی تحریک۔ اس کے برعکس رجیم چینج کا نعرہ زیادہ تر غیر مذہبی اور بیرونی حمایت یافتہ حلقوں کی جانب سے بلند کیا جا رہا ہے۔
یہ کہنا بھی حقیقت سے بعید نہیں کہ محض عوامی احتجاج کے نتیجے میں اسلامی حکومت کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔ البتہ بیرونی مداخلت، خفیہ آپریشنز یا عسکری دباؤ ایران کو عدم استحکام کی طرف ضرور دھکیل سکتے ہیں، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
خارجہ محاذ پر ایران کی پالیسی ہمیشہ جرات مندانہ اور نظریاتی رہی ہے۔ ایران نے فلسطین کے مسئلے پر مستقل اور کھل کر حمایت کی ہے، جس کے باعث اس کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ دوسری جانب چین اور روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ایران کے لیے ایک متبادل سفارتی اور معاشی راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اور مشرقی بلاک کے ساتھ تعاون اس بات کی علامت ہے کہ ایران یکطرفہ عالمی نظام سے ہٹ کر نئے امکانات تلاش کر رہا ہے۔
اگر خطے میں جنگ یا براہِ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی منڈیوں، توانائی کے نظام اور بالخصوص پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے مفادات اس سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام خطے میں فرقہ وارانہ تناؤ، مہاجرین کے بحران اور سیکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔
آج ایران کے سامنے لیے جانے والے فیصلے صرف اس کی اپنی تقدیر کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ فیصلے آنے والے برسوں میں پورے خطے اور دنیا کے امن و استحکام پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالات کو محض اندرونی مسئلہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنو منتخب ایم این اے چوہدری بلال فاروق تارڑ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن روانہ یورپ کی بدلتی سیاست کے پاکستان پر اثرات پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت زمین کے خدا — خواتین کے وراثتی حقوق اور ریاستی انصاف کا امتحان پاکستان کی معاشی صورتحال الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات اوورسیز پاکستانی: خاموش طاقت یا نظر انداز شدہ قومی اثاثہ؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔