پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ کراچی میں ایک بہت فعال میئر تھے، اُس وقت بھی بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا تھا، کراچی میں چار چار دن تک سڑکوں پر پانی جمع رہتا تھا، شہر کی رونقیں بحال ہوئی ہیں، آج وہ حالات نہیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں تو بن بھی رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نالائق ہے تو اس کا بوجھ سندھ حکومت نہیں اٹھائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع نہیں کر پاتا تو کیا یہ سندھ کا قصور ہے؟ پیسہ بچانا اور خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں تو ڈسکوز کو پرائیویٹائز کریں۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں پر یہ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، یہ محکمے صوبوں کو منتقل کر کے 300 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پیٹ کاٹ کر آپ اپنے خسارے اور نااہلی کو بھرتے جائیں گے تو یہ کافی نہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے بڑے بااختیار ہیں، وہ اپنے لوگوں کو خدمات دے رہے ہیں، آپ یہ نہیں کرسکتے کہ میرا خسارا ہو رہا ہے تو ادھر سے پیسہ نکالو، اس کا پیٹ کاٹو۔

شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی ضرور کریں لیکن آپ وسائل کم نہیں کرسکتے، آپ کسی صوبے کو خیرات نہیں دے رہے، یہ صوبوں کا حق ہے، ہم پیسہ جمع کرتے ہیں، فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں ڈالتے ہیں، وہاں سے وہ تقسیم ہوتا ہے۔ کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ کراچی میں ایک بہت فعال میئر تھے، اُس وقت بھی بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا تھا، کراچی میں چار چار دن تک سڑکوں پر پانی جمع رہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی رونقیں بحال ہوئی ہیں، آج وہ حالات نہیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں تو بن بھی رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شرمیلا فاروقی کراچی میں نے کہا کہ سڑکوں پر رہی ہیں

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن