والڈ سٹی افسران کی نااہلی، فروغ سیاحت کامنصوبہ نامکمل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)والڈ سٹی اتھارٹی سیاحت کے فروغ کااہم ترین منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام ہو گئی ۔ اربن ری ہیبیلیٹیشن اینڈ انفراسٹرکچر امپروومنٹ کے تحت بھاٹی گیٹ سے کٹری حاجی اللہ بخش شیخاں منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ، منصوبےکے تحت ایک ہزار 28 عمارتوں کو محفوظ بنایا جانا تھا لیکن صرف 348 پر ہی کام ہوسکا ۔
منصوبہ عالمی بینک کی جانب سے فنڈنگ کے باوجود نامکمل رہا ، پی این ڈی میٹنگ منٹس میں انکشاف دس فروری 2023 کو ایک ارب 73 کروڑ روپے لاگت والے منصوبے کی مدتِ تکمیل جون 2024 مقررکی گئی ۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت 1028 عمارتوں کو محفوظ بنایا طے کیا گیا لیکن صرف 348 عمارتوں پر ہی کام ہوسکا ، والڈ سٹی اتھارٹی 690 عمارتوں پر کام مکمل کرنے میں ناکام رہی ، والڈسٹی بھی ٹھیکیدار، تاخیر سے ڈرائینگز دینے والے کنسلٹنٹ کیخلاف کارروائی سے بھی گریزاں رہی ۔
والڈ سٹی اتھارٹی نے منصوبے کا اسکوپ 1028 جائیدادوں کی بجائے تین سو ساٹھ کرنےکی درخواست کی پلاننگ اینڈڈویلپمینٹ بورڈ پنجاب نے تاخیر کی وجوہات سمیت دیگر امور سے والڈ سٹی اتھارٹی سےوضاحت مانگ لی ۔ سماء نے والڈ سٹی اتھارٹی سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔