اوگرا کا جنوری کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جنوری 2026 کے لیے درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں کمی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس سسٹم کے صارفین کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی نادرن گیس سسٹم کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمت میں 0.
اوگرا کا کہنا ہے کہ درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں یہ کمی صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کرے گی اور گھریلو و صنعتی صارفین کے لیے گیس کے استعمال پر آنے والے اخراجات میں کمی کا باعث بنے گی۔ اتھارٹی کے مطابق یہ نوٹیفکیشن مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ نرخوں کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کا اثر سوئی نادرن اور سوئی سدرن سسٹم سے منسلک صارفین کے گیس بلوں میں فوری طور پر نمایاں ہونا شروع ہو جائے گا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک کمی متوقع ہے۔
اوگرا نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گیس کے استعمال میں احتیاط اور مناسب توانائی بچت کے اقدامات اختیار کریں تاکہ قیمتوں میں کمی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے، اس فیصلے سے ملک کے توانائی کے شعبے میں استحکام آئے گا اور صارفین کے لیے مالی سہولت میں اضافہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درآمدی ایل این جی کی قیمت قیمتوں میں کمی کا کی قیمتوں میں کے لیے درآمدی گئی ہے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔