غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک فاقے کی طرف جا رہا ہے، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کراچی:
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک غلط پالیسیوں کی وجہ سے فاقے کی طرف جا رہا ہے۔
محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی کراچی آمد ہوئی اور مختلف شخصیات سے ملاقات کی اور اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرانوں میں ہے اور یہ بحران اندر سے پیدا کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ادارے شخصی نوکر کا کام کررہے ہیں، ہماری فوج یا کسی ادارے سے دشمنی نہیں ہے، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور فوج کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک فاقے کی طرف جا رہا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی ہے، آپ لوگوں کو یہاں سے باہر نکل رہے ہیں، باجوڑ سے خیبر تک حالات بہتر نہیں ہیں لیکن اسلام آباد جائیں گے تو معاملات پر بات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے بات کروں گا، ہم ادارے کے کہنے پر نہیں چلتے ہیں، حکومت نے آئین پر حملہ کیا ہے لیکن آئین بالادست ہو اور عوام کو حقوق ملیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایشیا کادل افغانستان ہے اور عالمی صورت حال پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔