کراچی: ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا۔
ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کی، گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم عمران اور وقاص خان شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان کے علاقے میں کارروائی کی، کراچی پولیس کو 2020 سے 2025 تک 7 شکایات رپورٹ ہوئی تھیں۔
عثمان سدوزئی کا بتانا ہے کہ مختلف اضلاع کے کیسز میں ڈی این اے ایک ہی شخص کا ملا تھا اور 6 سال سے الگ کیسز میں ایک ہی ڈی این اے ملنے پر تفتیش ہوئی، تمام کیسز میں 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک کیس میں بچے سے دو سے زائد افراد نے زیادتی کی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے 6 جنوری کو ٹیم تشکیل دی تھی، یہ ٹیم ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں بنائی گئی تھی۔
عثمان سدوزئی کا بتانا ہے کہ ٹیم نے 11 روز کے اندر مطلوب ترین ملزمان کو گرفتار کیا، ملزم عمران منظور کالونی کا رہائشی ہے جو پنکچر کا ٹھیا لگاتا ہے، گرفتار مرکزی ملزم عمران نے 6 سال میں درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران نے تمام بچوں کو ملیر ندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، عمران موٹرسائیکل کا بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتا تھا، درج شدہ تمام 7 مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا جبکہ 3 کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت بھی کرلیا ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے کہا ہے کہ ایک کیس میں بچے نے عمران اور ساتھی وقاص خان کو بھی پہچانا، ملزم ایک بچے کو وقاص کے ساتھ سرجانی بھی لے گیا تھا، بچے نے شور مچایا تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بچوں سے زیادتی انویسٹی گیشن زیادتی کا کیسز میں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔