شادی شدہ بھانجی سے تعلقات کے شبہے پر اغوا اور قتل کا معما حل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کے علاقے سے 2 روز قبل مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان کے اندھے قتل کا معما حل کرکے ملزم کو گرفتار کرلیاگیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے نوجوان کو شادی شدہ بھانجی سے مبینہ تعلقات کے شبہے پر بھانجی اور اس کے خاوند کے ساتھ مل اغوا کیا اور پھندا لگا کر قتل کرکے لاش نالہ لئی میں پھینک دی تھی۔ پولیس نے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کردیے ہیں۔
تفصیلات میں بتایا گیاہے کہ 26 اکتوبر کو فضل غفار نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایاکہ بھانجا سلیم گل میرے ساتھ اعوان چوک میں رہائش پذیر ہے اور 6 دن سے گھر سے پراسرار حالات میں غائب ہے، جس کو تلاش کیا لیکن کچھ پتا نہیں چلا۔ درخواست پر پولیس نے اغوا کے جرم میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی، تاہم 2 دن قبل مغوی کی لاش نالہ لئی سے ملی، جسے پھندا لگا کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس نے لاش ملنے پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا تو جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے تفتیشی افسران کو سراغ ملا کہ مقتول سبزی منڈی میں کام کرتا تھا، جہاں پر اسی علاقے کے عبدالباسط وغیرہ بھی کام کرتے تھے ۔ مقتول کے تعلقات باسط کہ شادی شدہ بھانجی سے استوار ہوگئے تھے۔ پولیس نے عبدالباسط کو شامل تفتیش کیا تو کیس کی کڑیاں کھلتی چلی گئیں اور انکشاف ہوا کہ عبدالباسط نے بھانجی اور اس کے خاوند کے ساتھ مل کر بھانجی ہی سے مبینہ تعلقات کے شبہے پر نوجوان کو اغوا کیا اور پھندا لگا کر قتل کرکے لاش نالہ لئی میں پھینک دی۔
بعد ازاں پولیس نے عبدالباسط کو باضابطہ گرفتار کرلیاگیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھانجی اور اس کے خاوند کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پولیس نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔