Islam Times:
2026-06-02@22:32:21 GMT

بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 595 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور پاکستانی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں فی تولہ بالترتیب 6 ڈالر اور 600 روپے کی کمی آگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 595 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی آگئی۔ مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 81 ہزار 862 روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 515 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 13 ہزار 118 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ اسی طرح چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 43 روپے کی کمی سے 9 ہزار 432 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 37 روپے کی کمی سے 8 ہزار 129 روپے کی سطح پر آگئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں بین الاقوامی صرافہ مارکیٹ روپے کی کمی مارکیٹ میں کی سطح پر کی کمی سے فی تولہ ڈالر کی

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی