بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 595 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور پاکستانی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں فی تولہ بالترتیب 6 ڈالر اور 600 روپے کی کمی آگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 595 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی آگئی۔ مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 81 ہزار 862 روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 515 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 13 ہزار 118 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ اسی طرح چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 43 روپے کی کمی سے 9 ہزار 432 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 37 روپے کی کمی سے 8 ہزار 129 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں بین الاقوامی صرافہ مارکیٹ روپے کی کمی مارکیٹ میں کی سطح پر کی کمی سے فی تولہ ڈالر کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں