مریم نواز نے 30 جون تک مزید 30 نئے سہولت بازار مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سہولت بازار پراجیکٹ سے55ہزار خاندانوں کے گھرمیں چولہا جلنے لگا۔،پنجاب بھر میں 46سہولت بازاروں میں 9200 لوگوں کو باعزت روزگار مل گیا ۔ سہولت بازارو ں میں ایک سال میں ساڑھے 8کروڑ افراد کی آمد،ساڑھے 42کروڑ روپے کی خریداری کی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے مزید 30نئے سہولت بازار 30جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کردیا۔سہولت بازاروں کو بتدریج پنجاب کی ہر تحصیل میں قائم کرنے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔سہولت بازاروں سے سستی اور معیاری اشیائے خورد ونوش کی آسان فراہمی ممکن ہوئی۔مریم نوازشریف نے کہا ،پنجاب کے ہر شہری کو سستی اور معیاری اشیاء مہیا کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔