آگ پر 77 فیصد قابو پا لیا، ٹائم فریم نہیں دے سکتے: ریسکیو سندھ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی: (نیوزڈیسک) سی او او 1122 ریسکیو سندھ ڈاکٹر عابد جلال نے کہا ہے کہ گل پلازے میں لگی آگ پر 77 فیصد تک قابو پالیا ہے، فائر فائٹنگ جاری ہے، تکمیل کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔
سی او او 1122 ریسکیو سندھ ڈاکٹر عابد جلال نے بتایا ہے کہ ہمیں 10بجکر38منٹ پر پہلی کال موصول ہوئی، ہم نے فوراً ریسکیو کی 2اورکے ایم سی کی گاڑیاں بھیجیں، تقریباً 22فائرٹینڈرز نے آپریشن میں حصہ لیا، کے ایم سی کے 4اسنارکل نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر عابد جلال نے کہا کہ کمرشل پلازے کی دکانوں میں کیمیکل کا سامان بہت زیادہ تھا، ہمیں آگ پر قابوپانے میں بہت وقت لگ گیا، آگ کی شدت کے باعث پلازے کا پچھلا حصہ بھی منہدم ہوچکا ہے، آگ پر 77فیصد تک قابو پالیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائرفائٹنگ کا عمل جاری ہے، ٹائم فریم نہیں دے سکتے، آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل شروع ہوگا، پراسیس مکمل کرنے میں 2سے3روز لگ سکتے ہیں، پلازے کا سٹرکچر انتہائی مخدوش حالت میں ہے، آج صبح ہمارا ایک فائر فائٹر ریسکیو عمل کے دوران شہید ہوا ہے۔
ڈاکٹر عابد نے بتایا کہ جہاں تک ہماری رسائی ہے وہاں تک آگ پر قابوپالیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیقات کے احکامات جاری کردیئے ہیں، ترجیح ہے آپریشن کو مکمل کریں، پلازے کا پچھلا حصہ مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔