پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو فلسطین کے مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت دینا ایک بڑی کامیابی ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی یہ دعوت پاکستان کے عالمی وقار اور کردار کی بین الاقوامی سطح پر پہچان ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی

طاہر محمود اشرفی کے مطابق یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق میں کی گئی کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نمایاں خدمات شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اس دعوت کو قبول کرکے پاکستان کے فلسطینی عوام کے لیے کردار کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو غزہ کے حوالے سے بنائے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان

ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ڈونلڈ ٹرمپ طاہر اشرفی غزہ بورڈ آف پیس کامیابی قرار وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ طاہر اشرفی غزہ بورڈ ا ف پیس کامیابی قرار وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو شمولیت کی کی دعوت کے لیے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل