اینکر پرسن اقرارالحسن کی گل پلازہ آمد، ریسکیو اقدامات میں تاخیر پر برہم، پی پی رہنما سے تلخ کلامی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر معروف اینکر اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن نے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، اس دوران ان کی پی پی رہنما سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اقرار الحسن اپنے حامیوں کے ہمراہ عمارت کے قریب پہنچے اور ریسکیو کے اقدامات میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اقرارالحسن ان گالیوں کا جواب بھی عمران خان سے مانگیں گے کیونکہ باقی جماعتیں سوال کرنے پر مارتی بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتی
#عہدہ_امانت_ہے
#اڈیالہ_پہنچو_ورنہ_استعفیٰ_دو
pic.
— Ujii ???? (@UjalaRaza_) January 19, 2026
پی پی رہنما نے کہاکہ اس مشکل وقت میں سیاست نہیں کی جانی چاہیے، جس پر اقرارالحسن نے کہاکہ اندر 40 لوگوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں، کیا ہم سوال بھی نہ کریں۔
اس دوران پی پی رہنما کے ساتھ موجود کارکنان نے اقرارالحسن سے آہستہ بات کرنے کا کہتے ہوئے حملہ کردیا، تاہم وہاں پر موجود لوگوں نے بیچ بچاؤ کرایا۔
اس موقع پر اقرارالحسن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔
عوام راج پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ حکمرانوں کو مہنگے پروٹوکول کی سہولیات اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں، لیکن گل پلازہ سانحے میں حالات بالکل مختلف اور تشویشناک ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی آتشزدگی: جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک جاپہنچی، واقعہ میں تخریب کاری کا امکان مسترد
واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ پر 36 گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔ اس کے بعد عمارت کے اندر سے لاشیں اور انسانی اعضا برآمد کیے جا رہے ہیں اور اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اقرارالحسن اینکر پرسن تلخ کلامی گل پلازہ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقرارالحسن اینکر پرسن تلخ کلامی گل پلازہ وی نیوز پی پی رہنما گل پلازہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔