پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں جھگڑا، سینیٹر زرقا اجلاس چھوڑ کر باہر نکل گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی جھگڑے کا شکار ہو گیا، اجلاس کے دوران شاہد خٹک نے سینیٹر زرقا کو اجلاس سے باہر نکلنے کا کہہ دیا، جس پر سینیٹر زرقا نے شوکاز نوٹس کے جواب کے باوجود فیصلہ نہ ہونے پر احتجاج کیا، اجلاس سخت جملوں کے تبادلے کے بعد ختم ہو گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں موجود ارکان پارلیمنٹ خیبرپختونخوا ہاؤس سے احتجاجاً چلے گئے،اگر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا اجلاس نہیں چلا سکتے تو اسے بلانے کی ضرورت نہیں اور شاہد خٹک کے رویے پر بانی پی ٹی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ تلخ کلامی ان کے آنے سے پہلے ہوئی تھی اور کسی نے بھی ان کے یا بیرسٹر گوہر کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔
سینیٹر زرقا نے کہا کہ پارٹی نے انہیں شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے کہا کہ بیان حلفی جمع کروائیں اور سخت جملوں کے تبادلے کے بعد اب پارٹی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی کہ انہیں برقرار رکھنا ہے یا نہیں، انہیں کروڑوں کی آفرز ملیں لیکن انہوں نے ان کو ٹھکرایا۔
شاہد خٹک نے اس معاملے پر کہا کہ وہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینیٹر زرقا پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔