WE News:
2026-06-02@22:14:43 GMT

کینیڈا کے انڈے

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

یہ جیو پالیٹکس کے بڑے اصولوں میں سے ہے کہ اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممالک عالمی تجارت میں بھی کسی ایک آئٹم کے لیے ایک ہی ملک پر انحصار نہیں کرتے۔ مثلا تیل ہی دیکھ لیجئے۔ روس کبھی بھی اپنا سارا تیل اس چین کو فروخت نہیں کرے گا جو تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اور نہ ہی چین روس کی ایسی کوئی آفر قبول کرے گا۔ کیوں؟ کیونکہ کسی بدلتی سیاسی صورتحال میں یہ انحصار تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ خود پاکستان کی خارجہ پالیسی اس کی بہترین مثال ہے۔ ہم چین اور امریکا دونوں سے گہرے روابط رکھتے آئے ہیں، اب اس میں روس کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ سو کوئی ایک بھی عالمی طاقت ہمیں مجبور محض سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتی۔ اکثر امریکا ہی یہ حرکت کرتا ہے، اور ہر بار ہم چین کی طرف جھکاؤ بڑھا کر اسے ریورس ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔

مغربی ممالک، بالخصوص یورپین ممالک نے ہی یہ خوفناک غلطی کی کہ اپنا سارا پولیٹکل انحصار دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا پر رکھا۔ پاکستان یا انڈیا چھوڑیے وہ چین اور روس جیسے ممالک سے بھی امریکی نمائندے بن کر بات کرتے آئے ہیں۔ اگر امریکا نے پالیسی اختیار کرلی کہ چین کو تڑیاں دینی ہیں تو یورپین ممالک نے بھی تڑیاں دینی شروع کردیں، امریکا نے فیصلہ کیا کہ تعلقات نارمل کرنے ہیں تو یورپ نے بھی ویسا ہی کیا۔ یوں پچھلے 80 برس کے دوران مغرب سے باہر کے ممالک جتنا امریکا سے تنگ رہے اتنا ہی یہ یورپ کے بھی ستائے ہوئے ہیں۔

سارے انڈے امریکی ٹوکری بلکہ ٹوکرے میں رکھنے کی یہ غلطی اب ان ممالک کے لیے ڈرؤنے خواب کی تعبیر بن کر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت سامنے ہے۔ اور قیادت یا تدبر کا بحران ایسا شدید کہ ناقابل یقین قسم کا مسخرا پن یورپین رہنماؤں کا عام چلن بن گیا ہے۔ مثلا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ لینے کی بات کی تو ایک سال تک یہ اسے ہنسی میں اڑاتے رہے۔ حد یہ کہ جب وینزویلا کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ اب گرین کی باری ہے، شرافت سے حوالے نہ کیا گیا ہم زبردستی لیں گے۔ جانتے ہیں یورپین ممالک نے اس کا جواب کس شکل میں دیا؟ فرانس نے 15، جرمنی نے 13، سویڈن نے 3، ناروے نے 2، جبکہ برطانیہ اور نیدرلینڈ نے ایک ایک فوجی گرین لینڈ کے دفاع کے لیے بھیج دیا۔

تعداد دیکھ کر حیرت ہوئی ناں؟ اگر ہاں، تو پلیز حیران مت ہوں، زوال کے دور میں رنگیلے شاہ جیسے لوگ ہی اقتدار میں ہوتے ہیں۔ان کو لگا تھا ڈونلڈ ٹرمپ لطیفوں کے موڈ میں ہے، چلو ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں۔ اور یہ مذاق اب ٹرمپ کے ٹیرف کی شکل میں ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ اب جاکر ای یو ممالک کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے، اور ساتھ یہ وارننگ جاری فرمائی گئی ہے کہ ہم امریکا سے تجارت بند کردیں گے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ امریکا سے تجارت بندکریں گے تو کس سے کریں گے؟ دنیا میں کوئی دوست بنایا ہے آپ نے؟ چین اور روس کو تو یہ عین پچھلے ہفتے بھی تڑیاں دیتے رہے ہیں۔ وہ بھی امریکی خوشامد میں۔

آپ ذرا یہ دیکھیے کہ گرین لینڈ کے مسئلے پر ٹرمپ نے کس صفائی سے انہیں گھیرا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ پر چین یا روس قبضہ کرسکتے ہیں تو لوگ یہی سمجھے کہ یہ چین اور روس کے ڈراوے والی قدیمی روایت ہے۔ چین اور روس گرین لینڈ پر کیوں قبضہ کرنے لگے؟ لیکن جب ڈنمارک نے کہا کہ گرین لینڈ پر چین اور روس کے قبضے کا کوئی خطرہ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ اندر کی بات سامنے لے آئے، اور کہا ’خود ڈنمارک کی وزیراعظم نے پچھلے سال کہا تھا کہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ گرین لینڈ پر چین اور روس کے قبضے کا خطرہ ہے۔ سو اس خطرے کے سدِباب کے لیے ہی ہم گرین لینڈ لینا چاہتے ہیں۔‘

جانتے ہیں فی الحقیقت ہوا کیا ہے؟ بس اتنی سی بات کہ یورپین ممالک امریکا کو خوش کرنے لیے آئے روز چین اور روس کے خلاف اوٹ پٹانگ بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، ڈنمارک کے ایسے ہی ایک بیان کا ڈونلڈ ٹرمپ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کا نتیجہ۔ اوقات ان یورپین ممالک کی یہ ہے کہ جب 3 روز قبل ٹرمپ گرین لینڈ میں ایک ایک اور 2، 2 فوجی بھیجنے والے ممالک پر ٹیرف لگایا تو صرف 8 گھنٹوں میں ہی یورپ کے سب سے بڑے ملک جرمنی نے اپنے 13 فوجی نکال لیے۔ بخدا دم دبا کر بھاگنے والا منظر تھا۔

اس پوری صورتحال میں ایک ہی مغربی ملک ایسا سامنے آیا ہے جس کے وزیر اعظم نے وہ کیا جو عقل والے کرتے ہیں۔ اور ملک بھی وہ جس کی سرحد امریکا سے ملتی ہے، یعنی کینیڈا۔ وہی کینیڈا جسے ٹرمپ امریکا کا 51 واں صوبہ بنانے کے بات کرتے آئے ہیں۔ وزیر اعظم مارک کارنی پچھلے سال مئی میں امریکہ کے دورے پر گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی نبض چیک کی۔ اسی سال اکتوبر میں وہ کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملے اور صرف 3 ماہ بعد گزشتہ ہفتے وہ بیجنگ کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے۔ جو مارک کارنی نے بیجنگ میں کیا اور کہا اس نے پورے مغرب کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

یہ اسی کینیڈا کے وزیراعظم کا دورہ تھا جس نے 2024 میں امریکا کے کہنے پر چائنیز الیکٹرک کاروں پر 100 فیصد ٹیرف لگا کر ان کی امپورٹ روک دی تھی۔ مارک کارنی نے یہ ٹیرف 100 فیصد سے سیدھا 6 فیصد کی سطح تک گرا دیا اور کینیڈا کی مارکیٹ چائنیز الیکٹرک کاروں کے لیے کھولدی۔ نتیجہ کون بھگتے گا؟ ٹیسلا والا ایلون مسک۔

صرف یہی نہیں بلکہ مارک کارنی نے صدر شی جن پنگ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، ہم چین سے اسٹریٹیجک تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امریکا کے پڑوسی اور انگریزی زبان بولنے والے 5ویں ملک کے وزیراعظم کا چین سے اسٹریٹیجک تعلقات کے قیام کی بات کرنا تھا۔

اگر آپ اب بھی اس کی گہرائی نہیں سمجھ پائے تو ایک اور اینگل سے سمجھا دیتے ہیں۔ جس چین کو براعظم امریکا سے بیدخل کرنے کے لیے ٹرمپ کو امریکا سے 1200 کلومیٹر دور واقع وینزویلا کا صدر اغوا کرنا پڑا، اسی چین کو وہ کینیڈا اسٹریٹیجک پارٹنر شپ آفر کررہا ہے جس کی امریکا کی دیوار سے دیوار جڑی ہے۔ مارک کارنی یہیں تک نہیں رکے بلکہ چینی صدر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں نے صدر شی سے گرین لینڈ، ڈنمارک اور کینیڈا کی سالمیت و خودمختاری کے مسئلے پر بھی بات کی۔ اس حوالے سے ہم دونوں کے خیالات میں بڑی ہم آہنگی پائی گئی۔‘

گویا وزیراعظم مارک کارنی نے صاف صاف بتا دیا کہ ٹرمپ نے کینیڈا اور گرین لینڈ کے لیے جو مسائل پیدا کیے ہیں، وہ انہوں نے چینی صدر کے سامنے رکھے۔ ظاہر ہے تعاون مانگنے کے لیے ہی رکھے۔ اہمیت اس کی یہ ہے کہ کینیڈا کا جنوبی پڑوسی امریکا اور شمال مشرقی پڑوسی گرین لینڈ ہے۔ سو گرین لینڈ اگر امریکا کو مل جاتا ہے تو کینیڈا دونوں جانب سے امریکا کے بیچ سینڈوچ ہوگا۔ اور 51ویں امریکی ریاست بننے کا خطرہ مزید شدید۔ سو اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ مارک کارنی گرین لینڈ اور کینیڈا کا مسئلہ بیجنگ کیوں لے گئے؟ لیکن مارک کارنی کا جو جملہ پورے دورے کی ہائی لائٹ بنا وہ یہ رہا ’مجھے یقین ہے کہ ہم نے جو پیشرفت اس شراکت میں کی ہے، وہ ہمیں نیوورلڈ آرڈر کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔‘

یہ جملہ انہوں نے چینی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران میڈیا کی موجودگی میں کہا۔ یہ امریکی ورلڈ آرڈر سے بغاوت کا صاف اعلان تھا۔ اس کے ذریعے وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر رہے تھے کہ اپنی خود مختاری کے لیے وہ ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ ایک بہت ہی قابل غور چیز یہ ہے کہ بیجنگ سے واپسی پر مارک کارنی قطر کے دورے پر پہنچے۔ بظاہر چھوٹے سے اس ملک کے دورے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ مارک کارنی قطر کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین وزیراعظم ہیں۔ گویا اپنے سارے انڈے امریکا کی ٹوکری میں رکھنے والا کینیڈا اب اپنے انڈے ان ٹوکرویوں تک بھی پہنچا رہا ہے جن ٹوکریوں تک جانے کی کسی بھی کینیڈین وزیراعظم نے کبھی حاجت محسوس نہ کی تھی۔

کیا مارک کارنی نے ان دوروں سے قبل کوئی جذباتی بیان بازی کی؟ کوئی دھمکی دی کہ ہم چین سے ہاتھ ملا لیں گے؟ نہیں، انہوں نے خاموشی سے عین وقت پر اپنا ماسٹر اسٹروک کھیل دیا۔ ان کا کھیل کامیاب ہوتا ہے یا ناکام، یہ بعد کی بات ہے۔ قابل غور چیز یہ ہے کہ ایک مغربی ملک اپنی ماضی کی غلطی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا نظر آرہا ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ حکمت عملی میں کی گئی اس بڑی تبدیلی سے کینیڈا کے انڈے محفوظ ہو پائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا چین رعایت اللہ فاروقی روس کینیڈا کینیڈا کے انڈے گرین لینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا چین رعایت اللہ فاروقی کینیڈا گرین لینڈ چین اور روس کے مارک کارنی نے یورپین ممالک کہ گرین لینڈ گرین لینڈ پر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے امریکا سے یہ ہے کہ کہا کہ کے لیے چین کو ہم چین کی بات گیا ہے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار