ڈیڑھ سال سے پارٹی چیئرمین سے ملاقات کے لیے وقت مانگ رہی ہوں، فون کال تک نہیں اٹھاتے، پی ٹی آئی سینیٹر زرقا سہروردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت انہیں اور ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا۔ انہوں نے نہ تو ترمیم پر ووٹ دیا اور نہ ہی کسی سے پیسے لیے۔ ہم لوگوں کو نہ آر کیا جا رہا ہے نہ پار۔ ڈیڑھ سال سے پارٹی چیئرمین سے ملاقات کے لیے وقت مانگ رہی ہوں، فون کال تک نہیں اٹھاتے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ اغوا کے بعد سوشل میڈیا ٹیم نے ان سے ویڈیو بیان بنانے کی درخواست کی تھی، مگر بعض محرکات کے باعث وہ ویڈیو شائع نہیں کی گئی، جس کے بعد ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور کردار کشی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ ایک خاتون اور سینیٹر ہیں، اس لیے انہیں آسان ہدف بنایا گیا، جبکہ پارلیمانی پارٹی کے بعض مرد اراکین جنہوں نے 26ویں ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا تھا، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ریاض فتیانہ اور برگیڈیر گھمن نے بھی ووٹ نہیں دیا، مگر چونکہ وہ مرد تھے، اس لیے ان پر انگلی نہیں اٹھی۔
سینیٹر زرقا سہروردی کے مطابق پارٹی کی جانب سے انہیں شوکاز نوٹس دیا گیا، جس کا انہوں نے مکمل جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے تمام اقدامات پارٹی قیادت، خصوصاً شبلی فراز، کے علم میں تھے۔ بعد ازاں انہیں الزامات سے بری (ایگزونریٹ) کر دیا گیا۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ جن اراکین نے کھلے عام فلور کراسنگ کی، انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا، جبکہ انہیں، سینیٹر فیصل رحمان اور زین قریشی جیسے افراد کو نہ مکمل بری کیا گیا اور نہ ہی کوئی واضح فیصلہ کیا گیا، بلکہ انہیں درمیان میں لٹکایا گیا۔
سینیٹر زرقا سہروردی نے پارٹی قیادت سے رابطہ نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چیئرمین اور جنرل سیکریٹری سے ملاقات کے لیے کوشش کر رہی ہیں، مگر انہیں اپائنٹمنٹ نہیں دی گئی اور فون کالز کے جواب بھی نہیں دیے جاتے۔
سینیٹر زرقا سہروردی نے عمران خان کی صحت و تندرستی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر وہ پارٹی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 15 سال سے اسی جماعت کا حصہ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی، البتہ اگر پارٹی انہیں نکالنا چاہے تو یہ قیادت کا اختیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹر زرقا سہروردی نے انہوں نے سال سے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔