سنیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا گل پلازہ کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ زمینی حقائق تاجروں اور عینی شاہدین کے بیانات حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کیونکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، اگر نظام مؤثر ہوتا تو آج درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر نہ پھر رہے ہوتے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی کے ہمراہ تجارتی مرکز گل پلازہ کا دورہ کیا اور آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا۔ ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ نے انہیں اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مذکورہ حادثہ حفاظتی انتظامات کی سنگین ناکامی کا ثبوت ہے، جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرین کی بحالی، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کریں، یہ شہر قائد میں پہلا حادثہ نہیں ایسی طرح کے ماضی میں بھی واقعات ہوئے لیکن حکومت سے اس سبق نہیں سیکھا، شہر کی تمام کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، ایک ہزار سے زائد دکانوں کا راکھ میں تبدیل ہو جانا، چھ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، درجنوں افراد کا زخمی ہونا اور درجنوں شہریوں کا لاپتہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں ایمرجنسی ریسپانس سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ آگ ابتدائی مرحلے میں محدود ہونے کے باوجود بروقت اور موثر کارروائی نہ ہوئی جو جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ اور واضح حکمت عملی پر سوال اٹھاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی حقائق تاجروں اور عینی شاہدین کے بیانات حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کیونکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، اگر نظام مؤثر ہوتا تو آج درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر نہ پھر رہے ہوتے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے شہر کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔