درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، محمد اورنگزیب WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی بنیادی توجہ برآمدات کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی۔اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے ڈالر، یورو، اسلامی سکوک یا پانڈا بانڈ میں سے کون سا آپشن اختیار کیا جائے۔ پاکستان جلد اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ متعارف کرانے کی تیاری بھی کررہا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 4سال کے وقفے کے بعد پاکستان دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں قدم رکھنے جا رہا ہے، جو ملکی معیشت میں آنے والے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے واضح کیاکہ مختلف مالیاتی ذرائع پر غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈز کے ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پاکستانی وفد، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد دلانے میں مصروف ہے کہ پاکستان کی معیشت سنبھل چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں معاشی استحکام کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکانٹ جیسے اہم معاشی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عملی طور پر عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچنے والی مہنگائی اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے۔انہوں نے کہاکہ توقع ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جائیں گے، جو عالمی سطح پر ایک معیاری حد سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ادائیگیوں کے توازن میں بہتری، ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں اضافے کے باعث روپے پر فوری دبا نہیں، جبکہ قومی کرنسی گزشتہ ڈیڑھ سال سے نسبتا مستحکم ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ دیرینہ اصلاحات پر بھی عمل کیا جا رہا ہے، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھانا شامل ہے۔ان کے مطابق قومی ایئرلائن کی فروخت گزشتہ ماہ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک میں حکومتی حصص کی فروخت، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آٹ سورس کرنے اور تقریبا دو درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر بھی غور جاری ہے۔وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ درآمدات کی وجہ سے بار بار جنم لینے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیضان گلوبل ریلیف فاونڈیشن دعوت اسلامی کی ٹیم امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے فلسطین پہنچ گئی فیضان گلوبل ریلیف فاونڈیشن دعوت اسلامی کی ٹیم امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے فلسطین پہنچ گئی چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی بہتری پر اجلاس وزیر تجارت جام کمال خان سے فلپائن کے سفیر کی ملاقات ، دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا... نیب راولپنڈی کی جانب سے بینکرز سٹی ہاوسنگ سوسائٹی متاثرین کو رقوم کی واپسی شروع پاکستان،ویت نام پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ویت نام کے سفیر سے ملاقات کنزالمدارس بورڈ دعوت اسلامی کے تحت سالانہ امتحانات کا شیڈول جاری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب جا رہا ہے کے مطابق کے لیے کیا جا
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔