گل پلازہ کا ایک حصہ گرنے سے رمپا پلازہ کے دو کالم متاثر، ایس بی سی اے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فوٹو: اے ایف پی
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی ٹیم نے پاکستان انجنیئرنگ کونسل کے سینئر انجنیئر عارف قاسم کے ہمراہ تباہ حال گل پلازہ کا معائنہ کیا۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق گل پلازہ کا ایک حصہ گرنے سے رمپا پلازہ کے دو کالم متاثر ہوئے ہیں۔ عمارت کا بیرونی حصہ گرنے سے اندرونی حصہ متاثر ہوا ہے، بیرونی حصہ گرنے سے عمارت کا کچھ حصہ رمپا پلازا کی جانب جھک گیا ہے۔
ایس بی سی اے کے مطابق رمپا پلازہ اور متاثرہ عمارت کے جڑے ہوئے حصے پر جیک لگانے کے بعد عمارت کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے گرنے والے دونوں حصوں کا ملبہ بھی ایس بی سی اے ماہرین کی نگرانی میں اٹھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے گل پلازا آتشزدگی، ننھے مہمان کی آمد کی تیاریوں کیلئے آئی فیملی بھی لاپتہ، بھائی نے دل دہلا دینے والی تفصیل بتادی آپ کراچی کے دعوے دار نہ بنیں، غلطی آپ کی ہے، بلڈنگ آپ نے بنائی: عبدالقادر پٹیل سانحہ گل پلازا: جامعہ کراچی کو ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے 12 سوختہ لاشوں کے نمونے اور 47 ریفرنس نمونے موصول گل پلازا آتشزدگی، متاثرین کا ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا مطالبہایس بی سی اے کے مطابق عمارت کے بیسمنٹ میں بڑی مقدار میں گرم پانی موجود ہے، پانی نکلنے کے بعد ہی اندرونی کالمز کا معائنہ کیا جاسکے گا۔ عمارت کے فوری گرنے یا نہ گرنے کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ عمارت کے دونوں حصوں کے ملبے کو ہٹانے اور پانی کو نکالنے کے بعد ہی مکمل معائنہ کرنا ممکن ہے۔
ایس بی سی اے کے حکام کے مطابق گل پلازہ میں آگ لگنے سے ساتھ والی عمارت رمپا پلازا کے 2 کالم متاثر ہیں، ان دونوں کالمز پر آج رات تک جیک لگادیے جائیں گے۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق رمپا پلازہ کے کالمز ایک طرف جھک گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے رمپا پلازہ عمارت کے کے مطابق گل پلازہ
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں