بیشتر عمارتوں و کاروباری مراکز میں اسٹینڈرڈفائر سیفٹی نہ ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بھی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔کراچی کے شاپنگ پلازوں میں آتشزدگی کے واقعات میں کئی سو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، محکمہ فائر بریگیڈ نے 2 سال پہلے بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔آڈٹ رپورٹ میں بیشتر بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز میں اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فائر سیفٹی آڈٹ 2023ء کیا، جس کی رپورٹ یکم جنوری 2024ء کو کمشنر کراچی کو بھجوائی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، طارق روڈ اور شاہراہ قائدین کی عمارتوں کا آڈٹ کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر شہر کی 235 سے زائد عمارتوں کا سروے کیا گیا، فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران سنگین خامیاں سامنے آئیں۔رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ سروے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات ہوسکتے ہیں۔آڈٹ رپورٹ میں عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو فائر سیفٹی اقدامات کو یقینی بنانے کیلیے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی ا ڈٹ رپورٹ میں
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ