پاکستانی فضائی حدود بھارتی طیاروں پر بند، پابندی میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کردی ہے۔ پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی نے نوٹم جاری کرتے ہوئے کہا کہ پابندی 24 فروری کی صبح 5 بجے تک برقرار رہے گی اور اس کا اطلاق بھارتی ملکیت، لیز یا آپریٹ کیے گئے طیاروں کے ساتھ فوجی پروازوں پر بھی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی فضائی حدود عارضی طور پر بند، امریکی حملے کے خدشات میں اضافہ
پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بھارتی طیاروں پر پابندی کو ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ بھارتی ائیرلائنز کی تمام پروازیں پاکستانی فضائی حدود میں نہ داخل ہوں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ پابندی بھارتی ائیرلائنز کے زیر ملکیت، لیز یا آپریٹ کیے گئے طیاروں کے علاوہ فوجی پروازوں پر بھی لاگو ہوگی۔
اس سے قبل بھی پاکستانی حکام نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کی تھی، اور اب یہ مدت مزید بڑھا دی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی آپریشنز پر مکمل کنٹرول برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی طیاروں طیاروں کے کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔