اسلام آباد:

قومی سول اعزازات اور ان سے منسلک مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران غیر معمولی کارکردگی پر ساڑھے 1200 شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا گیا جب کہ مجموعی طور پر 21 قومی اعزازات میں سے 16 سول اعزازات کو مراعات کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ 5 اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات مراعات کے ساتھ ساتھ انعام کی بھی مستحق ہیں۔ کابینہ سیکرٹریٹ کے مطابق نشان شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 15 لاکھ روپے جب کہ بعد از وفات 18 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہلال شجاعت حاصل کرنے کی صورت میں زندہ ہونے پر 12 لاکھ 50 ہزار روپے اور بعد از وفات 16 لاکھ 25 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں  ستارہ شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 11 لاکھ 25 ہزار روپے جب کہ بعد از وفات 13 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ تمغہ شجاعت حاصل کرنے پر زندگی میں 10 لاکھ 25 ہزار روپے اور بعد از وفات 11 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والی شخصیت کو 12 لاکھ 50 ہزار روپے انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ سول اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات وی آئی پی لاونج اور گورنمنٹ گیسٹ ہاؤسز کے استعمال کی مستحق ہوتی ہیں جب کہ انہیں پستول، کلاشنکوف، 22بور اور  2شارٹ گن کے لائسنس سے استثنا بھی حاصل ہوتا ہے، تاہم تمغہ پاکستان، تمغہ شجاعت، تمغہ قائداعظم، تمغہ خدمت اور تمغہ امتیاز کے لیے کوئی مراعات نہیں دی جاتیں۔

ایوان کو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سول اعزازات دینے میں سندھ حکومت سر فہرست رہی، جہاں 3 سال کے دوران 149 سول اعزازات تقسیم کیے گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے 114، پنجاب حکومت نے 74 اور بلوچستان حکومت نے 37 شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا۔

مزید بتایا گیا کہ وزارت قومی ورثہ نے 132، وزارت اطلاعات نے 89، وزارت داخلہ نے 85 اور وزارت خارجہ نے 82 شخصیات کو سول اعزازات عطا کیے جب کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے 67 شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حاصل کرنے والی شخصیات کو سول قومی اسمبلی سول اعزازات بعد از وفات ہزار روپے جاتے ہیں گیا کہ

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر