پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بریگیڈیئر (ر) مشتاق احمد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا غیر مناسب ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج ہر پاکستانی کی ہے اور اس پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے جانے چاہئیں۔
اڈیالہ روڈ، داہگل ناکہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشتاق احمد نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ گزشتہ 50 دن سے تنہائی میں قید ہیں، جو تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج پارٹی رہنماؤں کو ملاقات نہیں کرنے دے رہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ اگر کل وہی صورتحال ان کے ساتھ ہوئی تو کیسا محسوس کریں گے۔
انہوں نے حکومت اور مقتدر حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، خاص طور پر حکومت پنجاب اس میں ملوث ہے، اور انہیں چاہیے کہ ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ملک کے حالات بہتر ہو سکیں۔
مشتاق احمد نے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی، کہا کہ معیشت تباہ ہو چکی ہے، سیاسی مسائل بڑھ رہے ہیں، اور ملک میں پیدا کی گئی فالٹ لائنز کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: “ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ فوج ہر پاکستانی کی ہے اور اس پر الزامات نہیں لگائے جانے چاہئیں۔ کسی ادارے، شخص یا حکومت کو اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے پاک فوج کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہم میں سے کسی کی پاک فوج سے بطور ادارہ کوئی رنجش نہیں ہے۔”
پی ٹی آئی رہنما نے بانی پارٹی کے خلاف مقدمات کی بنیاد کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ:آئین و قانون کے مطابق اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کی کوئی بنیاد نہیں۔ پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ کو پارٹی خود اوورسیز کرتی ہے اور اس پر جو بھی آتا ہے، پارٹی خود اوورسیز کرتی ہے۔”
انہوں نے سابقہ کیسز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 15 کلو ہیروئن والا کیس کہاں گیا، جس نے کیا اسے کر لیا اور جسے چھوڑنا تھا اسے چھوڑ دیا گیا۔ اس سلسلے میں جواب متعلقہ حکام سے لیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی انہوں نے پاک فوج کہا کہ

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا