حادثات اور پاکستانی پابندیاں سے ایئر انڈیا کو اربوں ڈالر نقصان کا سامنا  کرنا پڑا ہے۔

بلوم برگ  کی رپورٹ کے مطابق مطابق ایئر انڈیا کو ایک ہلاکت خیز ڈریم لائنر حادثے اور مسلسل آپریشنل مسائل کے باعث سالانہ 150 ارب روپے یعنی 1.6 ارب ڈالر کے ریکارڈ نقصان کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’فلک بھارت سے ہنوز خفا‘: ایئر انڈیا طیارے کو پھر سبکی کا سامنا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کو 31 مارچ 2026 تک مالی طور پر خسارہ ختم ہونے کی امید تھی، تاہم گزشتہ چند ماہ کے واقعات نے یہ امید ختم کردی۔

ایئرانڈیا کو سب سے بڑا دھچکا 12 جون 2025 کو اس وقت لگا، جب ایئر انڈیا کا بوئنگ -8787 ڈریم لائنر حادثے کا شکار ہوا، جس میں 229 مسافر اور 12 عملے کے افراد جان سے گئے، جبکہ زمین پر موجود تقریباً 19 افراد بھی ہلاک ہوئے، حادثے میں صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔

حادثے کے بعد ایئر انڈیا کو عارضی طور پر اپنی پروازیں کم کرنا پڑیں اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے ایئر لائن کو اپنی پوری ڈریم لائنر فلیٹ کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی فضائی پابندی سے ایئر انڈیا کو شدید نقصان، چین سے فضائی راستہ حاصل کرنے کی کوششیں

ایئر انڈیا کو اپریل 2025 میں بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا جب پاکستان نے بھارت اور اپنے درمیان کشیدگی کے بعد بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی۔ اس فیصلے کے بعد ایئر انڈیا اور دیگر بھارتی ایئر لائنز کو مہنگے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے، جس سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ٹاٹا گروپ، جو سنگاپور ایئر لائنز کے ساتھ مل کر ایئر انڈیا کا مالک ہے، ممکنہ طور پر ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو کیمبل ولسن کے متبادل پر غور کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئرانڈیا سے پرواز موت کا سفر بن گئی، بھارتی پائلٹس کا بوئنگ طیارے گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ

اگرچہ ایئر انڈیا کو 2026 میں بہتری کی امید ہے، تاہم ڈریم لائنر حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ رواں سال جاری ہونے کا امکان ہے، جس میں ایئر لائن پر تنقید بھی شامل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایئرانڈیا پاکستان حادثات فضائی بندش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئرانڈیا پاکستان حادثات ایئر انڈیا کو ڈریم لائنر کا سامنا

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد