Jang News:
2026-06-03@01:10:00 GMT

ایمان مزاری و ہادی علی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

ایمان مزاری و ہادی علی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی—فائل فوٹو

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو لڑائی جھگڑا کرنے کے کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی جس کے دوران عدالت سے ایمان مزاری اور ہادی علی کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو جوڈیشل کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا جس کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روز کےلیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا

ایمان مزاری کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کی پیشی کے موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، وکلاء اور میڈیا کو عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

اس سے قبل آج ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جا رہے تھے کہ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دونوں وکلاء اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور منظور ججہ بھی ان کے ہمراہ تھے، جبکہ پولیس اسکواڈ بھی ہائی کورٹ بار کی وین کے پیچھے تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی ہائی کورٹ بار ہادی علی کو اسلام ا باد

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ