خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں، عسکری ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کور کمانڈر کے درمیان مکمل رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہے اور دونوں مل کر صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب نیت درست ہو اور ریاستی سطح پر واضح اور دوٹوک فیصلے کیے جائیں۔
اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا پہلا اور بنیادی نکتہ فوجی آپریشن ہے، جس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی اسی صورت ختم ہوگی جب ریاستی ادارے یکسو ہو کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
عسکری ذرائع نے بتایا کہ اس وقت دہشت گردی کے حوالے سے بلوچستان پہلے نمبر پر ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں گورننس کے مسائل بھی درپیش ہیں، صوبے میں تقریباً تین ہزار تین سو ایسے ملازمین موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں پر پورا نہیں اتر سکتے، جس سے نظامِ حکمرانی متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ انہیں کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ریاست کا مقصد انہیں ٹھیک کرنا اور قانون کے دائرے میں لانا ہے، دہشت گرد عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔
عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت 2 ہزار 968 کیسز زیر التواء ہیں، گزشتہ صرف تین سال کے دوران ملک بھر میں 677 جبکہ صرف خیبرپختونخوا میں 621 مقدمات پر التوا دیا گیا، جو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
عسکری ذرائع نے خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس ایک بہادر فورس ہے، اگر اسے مکمل فری ہینڈ دیا جائے تو ہی وہ مؤثر انداز میں اپنا کام کر سکتی ہے، پولیس کو سیاسی یا انتظامی دباؤ کے بغیر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں عسکری ذرائع نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں آپریشن نہ کیا جائے تو کیا صوبے کو نورولی محسود جیسے دہشت گردوں کے حوالے کر دیا جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ایسی کسی صورتحال کی اجازت نہیں دے سکتی۔
آخر میں عسکری ذرائع نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر باہمی تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا میں کہ خیبرپختونخوا رہے ہیں کام کر کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔