Daily Pakistan:
2026-07-24@06:34:25 GMT

ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، بیرسٹر علی ظفر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، بیرسٹر علی ظفر

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے قرض ہے، پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت، نہ ہی خارجہ امور کا کوئی معاملہ لے کر آیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر ہی گزارا کرنا ہے عام شہری کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔اس معاملے پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہوچکا ہے، اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔

گل پلازا کے ملبے سے ڈیڑھ کلو سونا برآمد، پولیس نے مالک کے حوالے کردیا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر علی ظفرکی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں، بتایا گیا کہ اسد عمر بڑے معاشی ایکسپرٹ ہیں، انہیں 12 ماہ سمجھ نہیں آیا کرنا کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں، آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، ساتھ ہی اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔سینیٹ اجلا س میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیے ملتوی کردیا گیا۔

مانسہرہ میں رہائشی پلازے سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف