ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے قرض ہے، پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت، نہ ہی خارجہ امور کا کوئی معاملہ لے کر آیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر ہی گزارا کرنا ہے عام شہری کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔اس معاملے پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہوچکا ہے، اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔
گل پلازا کے ملبے سے ڈیڑھ کلو سونا برآمد، پولیس نے مالک کے حوالے کردیا
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر علی ظفرکی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں، بتایا گیا کہ اسد عمر بڑے معاشی ایکسپرٹ ہیں، انہیں 12 ماہ سمجھ نہیں آیا کرنا کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں، آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، ساتھ ہی اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔سینیٹ اجلا س میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیے ملتوی کردیا گیا۔
مانسہرہ میں رہائشی پلازے سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔