سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلیے ایم کیو ایم کا وزیراعظم کو ہنگامی خط
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کروانے کیلیے وزیراعظم کو ہنگامی خط ارسال کردیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز سے جاری اعلامیہ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم پاکستان کو ایک ہنگامی مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے سانحہ گل پلازہ کی "پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ" کے تحت اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خط میں موقف اختیار کیا کہ سانحے کو سات روز گزرنے کے باوجود کئی لوگ لاپتہ ہیں اور 12 ہزار سے زائد متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کے منتظر ہیں، جبکہ 100 سے زائد اموات اور اربوں کے مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت، میئر کراچی اور ایس بی سی اے (SBCA) کی مجرمانہ غفلت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے، نیب اور حساس اداروں پر مشتمل ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے اور وفاق کے زیرِ انتظام "ریلیف اور بحالی فنڈ" قائم کیا جائے۔
دوسری جانب مرکزِ بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارکانِ مرکزی کمیٹی و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت فوری طور پر وفاق کے حوالے کیا جائے یا اسے دارالخلافہ تسلیم کیا جائے۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ، ریسکیو آپریشن اور ملبہ اٹھانے کے دوران سنگین غفلت کا مظاہرہ
وزیر اعلی سندھ کا گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان
معروف کاروباری شخصیت کا گل پلازہ متاثرین کیلئے قرض کا اعلان
انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم نے سندھ کے شہری علاقوں کی نسل کشی کی ہے اور یہ ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے یاد دلایا کہ ایم کیو ایم نے پچیس سالہ "را" کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے ریاست کو اسلحے کے ٹرک بھر کر دیے، مگر آج شہر کو "جمہوری دہشت گردوں" کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے وزرا ماضی میں نائن زیرو پر گھٹنے ٹیکتے تھے اور لندن جا کر قائد کے ذاتی معاملات حل کرواتے تھے، مگر آج وہی لوگ شہر کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اگر نئی آئینی ترمیم میں بلدیاتی اختیارات کی شق شامل نہ کی گئی تو ایم کیو ایم کے تمام اراکین استعفیٰ دے دیں گے کیونکہ وہ وزارتوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ ایم کیو ایم گل پلازہ کی انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،