سانحہ گل پلازہ سے تاجر برادری کو بڑے نقصان کا سامنا ہے، سلمان سروری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کے صوبائی لیگل ایڈوائزر سندھ سلیمان سروری ایڈووکیٹ کی جانب سے جاری ایک میڈیا بیان میں سانحہ گل پلازہ کراچی میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور تاجر برادری کے بڑے مالی نقصان پر شدید دُکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں شہید و زخمی ہونیوالے افراد کے خاندانوں اور متاثرہ تاجران کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ صرف ایک واقع اور حادثہ نہیں بلکہ کراچی کی انتظامیہ اور حکومت سندھ کی بد ترین کارکردگی کا نوحہ خواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ میں سندھ حکومت اور حکومتی مشینری کی نااہلیت کھُل کر سامنے آگئی۔ سانحہ گل پلازہ سے ثابت ہوگیا کہ کراچی سمیت پورا سندھ تباہی کے دہانے پر ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں فائر برگیڈ اور محمکہ صحت کی جو خستہ حالی ہے وہ سب پر عیاں ہوچکی اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود سندھ کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔حکومتی و انتظامی نا اہلی کے سبب پورے سندھ کی عوام کو جانی و مالی خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ سندھ بھر کی عوام اسوقت بے آسرا نظر آتی ہے ایک معمولی سا حادثہ بھی حکومتی اور انتظامی نااہلی کے باعث بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے ماضی کے واقعات اس بات بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ رمضان المبارک کی امد قریب ہے تاجروں کے لیے فوری متبادل بندوبست کیا جائے اور شہید و زخمی ہونے والوں کے لیے جس پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اس پر فوری عمل درامد کیا جائے انہوں نے کہا کہ سانحہ گُل پلازہ میں امدادی کاروائیوں میں لبیک ویلفئیر کراچی کے ذمہ داران و کارکنان نے جس جانفشانی سے کردار ادا کیا اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ لبیک کارکنان نے ثابت کیا کہ وہ عوام کے صحیح معنوں میں خیر خواہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔