ہم امریکہ کے غلام نہیں، بیلجیئم کے وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پارلیمنٹ سے اپنی ایک تقریر میں بارٹ ڈی ویور کا کہنا تھا کہ امریکہ، بلاشبہ نیٹو کا سب سے طاقتور رکن ہے لیکن ہماری عزت برائے فروخت نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایسے وقت میں جب گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ کی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے، بیلجئیم کے وزیراعظم "بارٹ ڈی ویور" نے یورپی ممالک سے باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ بارٹ ڈی ویور نے اپنی پارلیمان سے تقریر کرتے ہوئے امریکہ کے مقابلے میں ملکی استقلال پر زور دیا۔ اس دوران انہوں نے ڈیوس عالمی اقتصادی فورم میں اپنی کارکردگی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوس اجلاس میں میرا پیغام بالکل واضح تھا اور وہ یہ تھا کہ امریکہ، بلاشبہ نیٹو کا سب سے طاقتور رکن ہے لیکن ہماری عزت برائے فروخت نہیں۔ جس پر اسمبلی کا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس دوران انہوں نے مزید کہا کہ ہم غلام نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے نقائص کی بھی نشان دہی کی۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے یورپ کی اسٹریٹجک کمزوریوں کو ظاہر کیا اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا کہ یورپی ممالک کو زیادہ خودمختاری کے ساتھ سامنے آنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بیلجئیم کے وزیراعظم کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے دعویٰ کیا کہ یورپ كے ساتھ گرین لینڈ کے حوالے سے ایک ممکنہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔