سانحہ گل پلازا میں زخمی اپنے گھر میں بجلی کی غیراعلانیہ بندش کی اذیت سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری)کے الیکڑک کی غیر اعلانیہ بندش نے سانحہ گل پلازہ کے زخمیوں کو بھی ازیت میں مبتلا کردیا ہے۔
کراچی کے دیگر علاقوں کی طرح لائینز ایریا کے رہائشی جوگل پلازہ میں آتشزدگی میں جھلس کر زخمی ہوگئے تھے نجی اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر منتقل ہوگئے۔ اس کے بعد سے اپنے گھرلائینز ایریا میں ہی زیر علاج ہیں لیکن گزشتہ 5روز سے کے الیکڑک نے لائینز ایریا سمیت اطراف کے علاقے میں بجلی کی سپلائی غیر اعلانیہ طور پر منقطع کردی ہے جس کی وجہ سے زخمی متاثرین اور ان کے اہل خانہ شدید زہنی ازیت سے دوچار ہیں ذخمی ہونے والوں اور دیگر رہائشیوں کے گھر مکمل طور پر5روز سے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں، جبکہ لائینز ایریاکے رہائشی جوکے الیکڑک کے اسٹار صارف کہلاتے ہیں اور بجلی کا بل بروقت ادا کرتے ہیں اس کے باوجودلائینزایریا میں بجلی کی سپلائی معطل کی ہوئی ہے جبکہ گھر میں موجود خواتین کو روز مرہ کے معمولات میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
گل پلازہ میں جھلس کر ذخمی ہونے والے متاثرین اور اہل خانہ کے الیکڑک سے فریاد کررہے ہیں کہ ہمارا پہلے ہی بہت نقصان ہوگیا ہے ہمارا کاروبار ودکانیں تباہ و برباد ہوگئی ہیں اس پر کے الیکڑک نے ہمارے گھر کی بجلی بند کر کے ہمیں مزید امتحان میں ڈال دیا ہے۔ کے الیکٹرک کا ادارہ لوگوں کو ذہنی مریض بنا رہا ہے۔
لائینز ایریا کے رہا ئشیوں نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم علاقہ مکینوں نے کے الیکڑک کے کمپلین سینٹر میں ای میل کے زریعے سی ای او کے الیکٹرک کو 5روز قبل علاقے کی بجلی منقطع کرنے کی شکایت بھیجی ہے ای میل میں ہم نے سی ای او کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے علاقے میں گزشتہ 5روز سے کے الیکٹرک کی جانب سے ٹیلیفون ایکسچینج لائینز ایریا کراچی میں بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔ علاقے میں سانحہ گل پلازہ کے دو متاثرین رہائش پذیر ہیں اور ان متاثرین کی طبی حالت بہتر نہیں ہے۔ تمام علاقہ مکین اس غیر یقینی صورتحال سے شدید پریشان ہیں۔ براہِ کرم اس مسئلے پر غور فرمائیں اور علاقے کی بجلی فوری بحال کریں۔تاہم انہوں نے اب تک بجلی بحال نہیں کی ہے۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک اپنے نظام کو بہتر کرنے کے بجائے لوگوں کو ذہنی مریض بنانے پر تلا ہوا ہے۔ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد معیشت کا پہلے ہی جنازہ نکال گیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے کہا کہ لائینز ایریا کی زیادہ تر آبادی ایک، دو کمرے کے مکانوں میں رہتی ہے۔ جہاں بنیادی ضروریات پہلے ہی ناپید ہیں۔ ایسے میں5روز سے بجلی کی عد فراہمی نے ہماری رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ چھوٹے اور بند گھروں میں حبس کا عالم ہوتا ہے، جہاں انسان بیٹھنے کے قابل نہیں رہتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک نے ہمیں ڈپریشن کا مریض بنادیا ہے، اور یہ ڈپریشن اب انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے کہا کہ بجلی کی سپلائی بند ہونے کے باعث پانی کی فراہمی کا سلسلہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ہمارے پاس نہ بجلی ہے اور نہ ہی پانی میسر ہے۔ہم اہل علاقے کے لوگ بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لاینز ایریا کے رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سردیوں میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کا فوری نوٹس لیا جائے اور زندگیوں کو آسان بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لائینز ایریا میں بجلی کی کے الیکٹرک کے الیکڑک گل پلازہ
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان